امت نیوز ڈیسک //
کشمیر وادی میں تیز آندھی اور درختوں کے گرنے کے باعث بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں وادی میں فعال بجلی لوڈ معمول کے تقریباً 1700 میگاواٹ کے مقابلے میں گھٹ کر 100 میگاواٹ سے بھی کم رہ گیا ہے۔ یہ جانکاری کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) نے جمعہ کو دی۔
کے پی ڈی سی ایل کے مطابق، بجلی کی شدید قلت کی بنیادی وجہ وادی بھر میں تقریباً تمام 33 کے وی فیڈرز کا بند ہو جانا ہے، جن میں وہ فیڈرز بھی شامل ہیں جو اہم اور ہنگامی خدمات کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ تیز ہواؤں اور بڑے پیمانے پر درختوں کے گرنے سے متعدد مقامات پر اوور ہیڈ بجلی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے ترسیل اور تقسیم کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ بحالی کے لیے مرمتی ٹیموں کو تمام اضلاع میں ہنگامی بنیادوں پر تعینات کیا گیا ہے، تاہم مسلسل تیز ہوائیں اور گرے ہوئے درخت مرمتی کام میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جس کے باعث بجلی کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
کے پی ڈی سی ایل نے مزید کہا کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن خراب موسم کی وجہ سے اس عمل میں وقت لگنے کا امکان ہے۔ کئی متاثرہ علاقوں تک رسائی بھی مشکل بنی ہوئی ہے کیونکہ سڑکیں بند ہیں اور موسم غیر مستحکم ہے۔
طویل بجلی بندش کے باعث وادی کے مختلف علاقوں میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ گھریلو بجلی، صحت کی سہولیات اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔
حکام نے عوام سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ موسم بہتر ہوتے ہی بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ضروری اور ہنگامی خدمات کو بجلی فراہم کی جائے گی، جبکہ مکمل بحالی مرحلہ وار عمل میں لائی جائے گی۔(کے این ٹی)





