امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے وادی کشمیر میں حالیہ برفباری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ خشک جنوری کے بعد یہ برفباری انتہائی ضروری تھی۔ انہوں نے کہا، “ہم کافی عرصے سے برفباری کے منتظر تھے، شکر ہے کہ سری نگر کے علاوہ وادی کے دیگر اضلاع میں اچھی خاصی برفباری ہوئی ہے۔”
تیز ہواؤں سے ہونے والے نقصانات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ روز کشمیر کے مختلف علاقوں میں نقصان ہوا اور بجلی کے متعدد فیڈرز بھی متاثر ہوئے۔ “ہم نقصانات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ عام حالات میں ہم 1700 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں، تاہم طوفانی ہواؤں کے باعث بجلی کی فراہمی کم ہو کر 100 میگاواٹ تک رہ گئی، جبکہ طلب 1600 میگاواٹ تھی،”۔
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ یہ برفباری آنے والے موسم سرما اور گرمیوں میں فائدہ مند ثابت ہوگی۔ “ہم اس برفباری کے فوائد آنے والے موسموں میں حاصل کریں گے اور امید ہے کہ اس کے باعث گرمیوں کا موسم بھی بہتر رہے گا، کیونکہ برفباری کشمیر کی زندگی کی بنیاد ہے،” انہوں نے کہا۔
تاہم، عمر عبداللہ نے برفباری سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ ”برفباری جہاں راحت کا باعث بنتی ہے، وہیں یہ روزمرہ زندگی، آمدورفت اور بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات بھی پیدا کرتی ہے، جن سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ پوری طرح متحرک ہے۔“





