امت نیوز ڈیسک //
سمبہ، 29 جنوری : جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے پر یونیورسٹی طلبہ کی جانب سے کیے گئے احتجاج کو وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے جمعرات کو کم اہمیت دیتے ہوئے احتجاج کی بنیاد ہی پر سوال اٹھا دیے۔
سانبہ میں نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا،“کون سا احتجاج؟ کس بات کا احتجاج اور کیوں؟”
انہوں نے کہا کہ جب جموں میں آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے گئے تھے تو اُس وقت کشمیر میں اس پر کوئی اعتراض یا احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا، اور نہ ہی جموں میں یہ مطالبہ اٹھایا گیا کہ ان اداروں میں سے کوئی ایک کشمیر منتقل کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معاملے میں اس طرح کے انتخابی اور علاقائی بنیادوں پر احتجاج مناسب نہیں ہیں۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ انہی کے دورِ حکومت میں اُس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو قائل کیا گیا تھا کہ جموں اور کشمیر دونوں خطّوں میں الگ الگ مرکزی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں، تاکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں علاقائی توازن برقرار رکھا جا سکے۔(کے این ٹی)






