سرینگر، 28 جنوری : جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اتراکھنڈ کے وکاس نگر علاقے میں 18 سالہ کشمیری نوجوان پر ہونے والے وحشیانہ حملے پر گہرے صدمے اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نوجوان اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ شالیں فروخت کر کے روزی کما رہا تھا، جب شرپسند عناصر کے ایک گروہ نے اسے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، نوجوان کو لوہے کی سلاخوں سے مارا گیا، جس کے نتیجے میں اس کا بایاں بازو فریکچر ہو گیا اور سر پر سنگین چوٹیں آئیں۔ حملے کے بعد نوجوان کے سر سے خون بہتا رہا۔ زخمی حالت میں پہلے اسے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں حالت نازک ہونے کے سبب دہرادون کے دون اسپتال ریفر کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ نوجوان کے اہلِ خانہ کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے اس کی شناخت کے بارے میں سوالات کیے۔ جیسے ہی معلوم ہوا کہ خاندان کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے اور وہ کشمیر سے آئے ہیں، تشدد میں شدت آ گئی۔ نوجوان کو بار بار گھونسے مارے گئے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد کو گھسیٹا گیا، تھپڑ مارے گئے اور نوکیلی لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا گیا۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس واقعے کو فرقہ وارانہ شناخت کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی ہجوم کی درندگی اور نفرت انگیز تشدد کی خوفناک مثال قرار دیا۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ شدید سردیوں میں اپنے خاندان کا سہارا بننے والا ایک 18 سالہ نوجوان انسانیت کی امید لیے روزی کما رہا تھا، مگر اسے انسانیت کے بجائے نفرت اور ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسوسی ایشن نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے میں فوری مداخلت کریں، سخت دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی جائے اور تمام ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کمزور طبقات کے خلاف تشدد اور فرقہ وارانہ نفرت کو معمول بنتا جا رہا ہے، جسے روکنے کے لیے ریاستی سطح پر فوری اور فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔





