امت نیوز ڈیسک //
ایران نے اسٹریٹجک آبنائے ہرمز میں دو روزہ لائیو فائر بحری مشقوں کا اعلان کیا ہے، جو اتوار سے شروع ہوں گی۔ یہ اعلان خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن اور دیگر فوجی اثاثوں کی تعیناتی کے بعد سامنے آیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ہفتہ کے روز ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری جہازوں کے قریب کسی بھی قسم کی “غیر محفوظ” سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انتباہ میں امریکی جنگی جہازوں پر پروازیں اور ایرانی تیز رفتار کشتیوں کے ممکنہ تصادم والے راستوں پر آنے کا ذکر بھی شامل ہے۔
سینٹکام کے مطابق، امریکی افواج، علاقائی شراکت داروں یا تجارتی جہازوں کے قریب غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل تصادم، کشیدگی اور عدم استحکام کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ امریکی کمانڈ نے زور دیا کہ امریکی فوج بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کے ساتھ کام کرتی ہے اور ایران کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
سینٹکام نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ لائیو فائر مشقوں کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی تجارتی نقل و حرکت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں اور جوہری پروگرام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیاں ہیں۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران منصفانہ اور مساوی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دفاعی حکمتِ عملی اور میزائل نظام پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے وزیر داخلہ سمیت سات ایرانی شہریوں اور ایک ادارے پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار بننے کی پیشکش کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔






