امت نیوز ڈیسک //
جموں، 4 فروری: جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بی جے پی ایم ایل اے سنیل شرما نے منگل کے روز راجوری اور پونچھ اضلاع کو پیربنجال خطہ قرار دیے جانے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس نام کا کوئی علیحدہ خطہ موجود نہیں اور ریاست ایک متحد و غیر منقسم اکائی ہے۔
اسمبلی میں اس بیان کے بعد ہنگامہ کھڑا ہو گیا، جہاں راجوری اور پونچھ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے احتجاج کیا۔ اسپیکر عبدالرحیم رادر نے شور شرابے کے باعث ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی۔ اس دوران بی جے پی اور حکمران اتحاد کے اراکین کے درمیان الزامات اور زبانی تکرار دیکھنے میں آئی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا، “جموں و کشمیر میں پیربنجال نام کا کوئی خطہ نہیں۔ کچھ عناصر الگ علاقائی شناختیں قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو جموں و کشمیر کی تاریخی اور ثقافتی وحدت کو چیلنج کرتی ہیں۔”
معافی کے مطالبے سے متعلق سوال پر انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ بتایا جائے کہ ایسا کوئی خطہ کہاں موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاریخی اور پرانک حوالوں کے مطابق اس علاقے کو پہلے “چندرابھاگہ ڈویژن” کہا جاتا تھا اور بعض عناصر الگ ناموں کو فروغ دے کر خطے کی شناخت کو “مٹانے یا بدلنے” کی کوشش کر رہے ہیں۔
سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کی کوششوں سے وجود میں آیا اور موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان کی وراثت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی خطے کی ازسرِ نو تنظیم یا سرکاری نام رکھنا ہو تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے باضابطہ طور پر کرے۔
بی جے پی رہنما نے پیربنجال اور چناب ویلی جیسے علاقوں کو الگ شناخت کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات غیر ضروری تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔






