امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 8 فروری: آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے روس میں بھارتی میڈیکل طلبہ پر ہونے والے حملے کے بعد ان کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل بشکیر اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم چار بھارتی طلبہ پر مبینہ پرتشدد حملے کے تناظر میں کی گئی ہے۔
وزیر اعظم کے نام لکھے گئے خط میں اے آئی ایم ایس اے نے واقعے پر شدید تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف بھارتی طلبہ کی جان اور وقار کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں میڈیکل طلبہ میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا کرتے ہیں۔
خط، جس پر قومی صدر ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور قومی نمائندہ محمد مومن خان کے دستخط ہیں، میں کہا گیا کہ بھارتی طلبہ انسانیت کی خدمت اور صحت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواب لے کر بیرونِ ملک جاتے ہیں، اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کا تشدد، امتیاز یا دشمنی ناقابلِ قبول ہے۔
اے آئی ایم ایس اے نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ روس کی متعلقہ حکام کے ساتھ فوری سفارتی اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرہ طلبہ کو انصاف دلایا جا سکے۔ تنظیم نے بیرونِ ملک زیرِ تعلیم بھارتی طلبہ کے لیے حفاظتی نظام اور معاونت کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
خط میں مزید اپیل کی گئی کہ بیرونی ممالک میں خطرات یا امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والے بھارتی طلبہ کے لیے واضح ہدایات (ایڈوائزریز) جاری کی جائیں اور ہنگامی ہیلپ لائنز قائم کی جائیں۔ اس کے علاوہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے غیر ملکی جامعات اور حکومتوں کے ساتھ سخت نگرانی اور مؤثر تال میل کی بھی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیر اعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اے آئی ایم ایس اے نے کہا کہ دنیا بھر میں بھارتی شہریوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ تنظیم نے متاثرہ طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بروقت مداخلت کی اپیل کی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار روکی جا سکے۔
اس اپیل نے بیرونِ ملک، بالخصوص غیر ملکی میڈیکل اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی طلبہ کی سلامتی سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے، جہاں حالیہ عرصے میں تشدد اور ہراسانی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ [کے این ٹی]





