امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے منگل کے روز لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف ’عدم اعتماد‘ کی تحریر پیش کی۔ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے باضابطہ طور پر ایک قرارداد کا نوٹس جمع کرا دیا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اسپیکر نے ایوان کی کارروائی چلانے میں “کھلے طور پر جانبدارانہ رویہ” اختیار کیا اور اپنے آئینی منصب کا غلط استعمال کیا۔
لوک سبھا میں کانگریس کے نائب لیڈر گورو گوگوئی، چیف وہپ کے سریش اور وہپ محمد جاوید نے آئین ہند کے آرٹیکل 94 (سی) کے تحت یہ نوٹس لوک سبھا کے سیکریٹری جنرل اتپل کمار سنگھ کو پیش کیا۔ یہ نوٹس کانگریس، سماجوادی پارٹی، ڈی ایم کے، بائیں بازو کی جماعتوں اور آر جے ڈی سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس نوٹس پر اپوزیشن کے تقریباً 120 ارکان پارلیمان کے دستخط ہیں، جن میں کانگریس، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی، لیفٹ پارٹیز، آر جے ڈی، شیو سینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (ایس پی) کے ارکان شامل ہیں۔ تاہم ترنمول کانگریس اس نوٹس کی فریق نہیں ہے، جبکہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی اس پر دستخط نہیں کیے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر نے متعدد مواقع پر اپوزیشن رہنماؤں کو بولنے کی اجازت نہیں دی، جو پارلیمان میں ان کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ اس میں خاص طور پر 2 فروری کا حوالہ دیا گیا ہے، جب صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران راہل گاندھی کو اپنی تقریر مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں بلکہ قائد حزب اختلاف کو تقریباً ہمیشہ بولنے سے روکا جاتا ہے۔
نوٹس میں 3 فروری کو بجٹ اجلاس کے پورے دورانیے کے لیے آٹھ اپوزیشن ارکان کی معطلی کو بھی “من مانی” قرار دیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ انہیں صرف اپنے جمہوری حقوق کے استعمال پر سزا دی گئی۔ اسی طرح 4 فروری کو ایک بی جے پی رکن کی جانب سے دو سابق وزرائے اعظم پر ذاتی اور قابل اعتراض حملے کا حوالہ بھی دیا گیا، جس پر اسپیکر کی جانب سے کوئی سرزنش نہیں کی گئی۔
اپوزیشن نے اسپیکر کے اس بیان پر بھی سخت اعتراض کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس “ٹھوس معلومات” ہیں کہ کانگریس کے کچھ ارکان وزیر اعظم نریندر مودی کی نشست کی طرف بڑھ سکتے ہیں اور کوئی “غیر متوقع حرکت” کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن کے مطابق یہ الزامات بے بنیاد، توہین آمیز اور ایوان کے وقار کے منافی ہیں۔
اپوزیشن نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر اسپیکر کا احترام کرتی ہے، لیکن انہیں اس بات پر شدید دکھ اور تشویش ہے کہ کس طرح اپوزیشن کو عوامی مفاد کے اہم مسائل اٹھانے سے روکا جا رہا ہے۔ اسپیکر اوم برلا نے نوٹس کا جائزہ لینے اور قواعد کے مطابق کارروائی کے لیے لوک سبھا سیکریٹری جنرل کو ہدایت دے دی ہے۔





