امت نیوز ڈیسک //
جموں، 10 فروری : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ یونین ٹیریٹری کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا، کیونکہ جموں و کشمیر کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک باغبانی کے شعبے پر ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاہدے سے جموں و کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا، کیونکہ امریکہ سے بغیر ڈیوٹی درآمد ہونے والے بادام، سیب، زعفران اور کیوی مقامی کسانوں کے لیے شدید مسابقت پیدا کریں گے۔
انہوں نے کہا،“ہماری معیشت درختوں سے حاصل ہونے والی اجناس، خشک میوہ جات، تازہ پھل اور ڈیری پر مبنی ہے۔ ہمارے پاس کوئی سمندری صنعت نہیں ہے۔ اگر یہ تمام چیزیں امریکہ سے بغیر ڈیوٹی آئیں گی تو جموں و کشمیر کو لازمی طور پر نقصان پہنچے گا۔”
اپنے حالیہ متنازعہ بیان پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت اپنے بیان کی وضاحت یا ترمیم کرنے کے لیے تیار تھے، مگر انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا،“یہ سب ریکارڈ پر ہے۔ جب مجھے بولنے ہی نہیں دیا گیا تو معافی مانگنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
بی جے پی کی جانب سے قوم پرستی سے متعلق تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے قائد حزبِ اختلاف کے یومِ جمہوریہ تقریب سے قبل روانہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،
“جو ہمیں حب الوطنی کا سبق دیتے ہیں، وہ خود پوری تقریب میں موجود نہیں رہ سکے۔ پہلے مجھے اس کی وضاحت دیں۔”
امرناتھ یاترا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انہیں یاترا کے انتظامات پر مجبور کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمیشہ سے اس یاترا میں کلیدی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا،
“میں مجبور نہیں کیا گیا۔ کشمیریوں نے ہمیشہ یاتریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر غار تک پہنچایا ہے۔ کشمیریوں کے بغیر یہ یاترا ممکن نہیں۔ ہم نے ہمیشہ اس یاترا کو سہولت فراہم کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ کرکٹ میچوں سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا،
“جو لوگ اپنی دھمکیوں پر قائم رہنے کی طاقت نہیں رکھتے، انہیں دھمکیاں نہیں دینی چاہئیں۔”(کے این ایس)





