سری نگر، 12 فروری:راجستھان کے ضلع چتورگڑھ میں واقع میواڑ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 33 کشمیری طلبہ کو بی ایس سی نرسنگ کورس سے متعلق مبینہ طور پر لازمی منظوریوں کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ کورس کو راجستھان نرسنگ کونسل (RNC) اور انڈین نرسنگ کونسل (INC) سے تاحال منظوری حاصل نہیں، جو کہ نرسنگ کی ڈگری کی قانونی حیثیت، پیشہ ورانہ رجسٹریشن اور مستقبل میں ملازمت کے لیے لازمی ہے۔
طلبہ کے مطابق اس کورس میں اس وقت 50 سے زائد کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور اگر منظوری کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ان کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ مطلوبہ منظوری جلد حاصل کر لی جائے گی، اور گزشتہ سال رجسٹرار کی جانب سے تحریری طور پر بھی اس مسئلے کے جلد حل کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
طلبہ کا الزام ہے کہ اس سلسلے میں اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی حتمی ٹائم لائن دی گئی ہے۔ مسلسل غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے وضاحت اور فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
احتجاج کے بعد 33 طلبہ کو معطل کر دیا گیا، جس پر جموں و کشمیر میں ان کے اہلِ خانہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اپنے جائز تعلیمی خدشات اٹھانا کوئی جرم نہیں ہونا چاہیے اور کورس کی قانونی منظوری حاصل کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے۔
طلبہ نے متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ منظوری کے مسئلے کو حل کر کے ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔






