امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 14 فروری : جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز ہند۔امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اعلیٰ معیار کی امریکی زرعی مصنوعات ملکی منڈی میں داخل ہوئیں تو مقامی کسانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
گنگل فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے، جو سکاسٹ میں منعقد ہوا، عمر عبداللہ نے کہا کہ اس نوعیت کے تجارتی بندوبست میں کسانوں کے لیے فوری اور واضح فوائد دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زرعی شعبہ دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جب تک کہ پیداوار اور معیار میں نمایاں بہتری نہ لائی جائے۔
انہوں نے کہا، “اگر کل کو امریکی مصنوعات ہماری منڈی میں آتی ہیں تو ہمیں مقابلے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔” وزیرِ اعلیٰ نے زور دیا کہ زرعی پیداوار کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ معیار کو بھی عالمی سطح کے مطابق بنانا ضروری ہے تاکہ مقامی کاشتکار مسابقت برقرار رکھ سکیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں دیہی معیشت کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور زراعت کو پالیسی کا مرکزی محور بنایا گیا ہے۔ انہوں نے سکواسٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحقیقی سرگرمیوں، جدت طرازی اور کسانوں کی رہنمائی میں یونیورسٹی کی ذمہ داری نہایت اہم ہے۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ خطے میں استحکام معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے بعد تعلقات میں بہتری کی امید ظاہر کی اور کہا کہ ایک مستحکم بنگلہ دیش پورے خطے کے مفاد میں ہے۔






