امت نیوز ڈیسک //
میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ جیسے ہی ماہِ مبارک رمضان کی آمد قریب آ رہی ہے، تاریخی جامع مسجد سرینگر اور اس مقدس مہینے کے درمیان ایک گہرا روحانی اور تاریخی تعلق دیکھنے کو ملتا ہے۔ صدیوں سے یہ مسجد رمضان المبارک کے دوران اجتماعی عبادت، تزکیہ نفس ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات کا مرکزی مقام رہی ہے۔
آج جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ حکام ماضی کی طرح اہم مواقع جیسے شبِ قدر، جمعة الوداع اور عیدالفطر پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ رمضان صرف انفرادی عبادت کا نام نہیں بلکہ یہ اجتماعی عبادت کا مہینہ ہے، جب ہزاروں لوگ اتحاد اور ربط و ضبط کے ساتھ نماز اور روحانی تجدید کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ بلا جواز وادی کی سب سے بڑی مسجد کو ایسے مقدس مواقع پر بند کرنا عوام کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تقویم کے سب سے مقدس ایام میں مرکزی عبادت گاہ کی بندش اہلِ ایمان کے لیے شدید اذیت اور دکھ کا باعث بنتی ہے جو اس بابرکت مہینے کی روح کے منافی ہے۔
میرواعظ نے عوام نوجوانوں، بزرگوں، مردوں اور خواتین سے اپیل کی کہ وہ ہمیشہ کی طرح رمضان المبارک میں بڑی تعداد میں جامع مسجد کا رخ کریں اور اس مہینے کو جو رحمت، مغفرت، تزکیہ نفس، اتحاد اور قربِ الٰہی کا مہینہ ہے، بھرپور طریقے سے فیوض حاصل کریں۔
میرواعظ نے بنگلہ دیش میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام کا خیرمقدم کیا اور کامیاب جماعت بی این پی اور بنگلہ دیشی عوام کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بنگلہ دیش کے لوگوں کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے دعا گو ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوں گے جو خطے میں امن، ترقی اور دیرپا استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔




