امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 14 فروری : سرینگر کی ایک عدالت میں 72 لاکھ روپے کے بڑے مالیاتی چیک ڈش آنر کیس میں سزا یافتہ شخص فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد عدالت کے احاطے سے فرار ہوگیا، جس پر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر نے اس کی فوری گرفتاری اور سینٹرل جیل سرینگر میں بند کرنے کا حکم جاری کیا۔
ملزم، جو ضلع بڈگام کے بیرواہ علاقے کا رہائشی بتایا جاتا ہے، کو قابلِ انتقال اسناد ایکٹ (Negotiable Instruments Act) کے تحت قصوروار قرار دیا گیا۔ عدالت نے اسے ایک سال قیدِ سادہ کی سزا سنائی اور 1 کروڑ 44 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، جو چیک کی رقم کا دوگنا ہے۔
مقدمہ ایک شکایت پر قائم کیا گیا تھا جس میں الزام تھا کہ ملزم نے سال 2018 میں ڈوڈپتھری علاقے میں پانچ کنال زمین خریدنے کے نام پر 72 لاکھ روپے وصول کیے، لیکن بعد کی تصدیق میں معلوم ہوا کہ زمین نہ فروخت کے لیے دستیاب تھی اور نہ ہی ملزم کو اس پر کوئی اختیار حاصل تھا۔
بعد ازاں ملزم نے فروری 2021 میں جے اینڈ کے بینک کی سرینگر برانچ سے مذکورہ رقم کا چیک جاری کیا جو ناکافی فنڈز کی وجہ سے واپس ہوگیا۔ قانونی نوٹس کے باوجود رقم ادا نہ کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا۔
سماعت کے دوران دفاع نے چیک پر دستخط تسلیم کیے لیکن مؤقف اختیار کیا کہ خالی دستخط شدہ چیک کا غلط استعمال ہوا ہے۔ عدالت نے یہ دلیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو کسی مبینہ غلط استعمال کی رپورٹ درج کرائی گئی اور نہ ہی ادائیگی روکنے کی ہدایت دی گئی۔ عدالت نے ایکٹ کی دفعات 118 اور 139 کے تحت قانونی قرض کی موجودگی کا قرینہ برقرار قرار دیا۔
عدالت نے جرمانے کی وصولی کے لیے ڈپٹی کمشنر بڈگام کو لیوی وارنٹ کے ذریعے منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کی اجازت بھی دی، جبکہ متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او کو ملزم کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔





