امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 17 فروری: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کا مکمل اطمینان صرف ریاستی درجہ کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے مرکزی حکومت کے ساتھ مسلسل مذاکرات جاری ہیں اور جلد مثبت نتائج کی توقع ہے۔
شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریاستی درجہ کی بحالی کا عمل توقع سے زیادہ طویل ہو گیا ہے، تاہم حکومت نے امید نہیں چھوڑی اور بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے 14 سیاحتی مقامات کی دوبارہ بحالی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان مقامات کی بندش سے یوسمرگ اور دودھ پتھری سمیت کئی علاقوں کے مقامی افراد کو معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاحتی سیزن کے آغاز کے ساتھ مقامی معیشت کو تقویت ملے گی اور لوگ ان خوبصورت مقامات سے بھرپور استفادہ کریں گے۔
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2021 کے سرکاری اراضی قبضہ کیس میں اب تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے لیے مختص کنسٹیچوئنسی ڈیولپمنٹ فنڈ (سی ڈی ایف) کا بڑا حصہ دیگر ریاستوں، خصوصاً اتر پردیش میں خرچ کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بجلی کے 34 فیصد خسارے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بالخصوص مقدس مہینے کے دوران کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ریگولرائزیشن کے لیے ایک وقت مقررہ پالیسی مرتب کی جائے گی، تاہم عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر احتجاج سے گریز کریں کیونکہ اس سے حالات اور مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





