امت نیوز ڈیسک //
ریاسی، 19 فروری:قصبہ کٹرا میں جمعرات کی صبح درجنوں افراد نے مجوزہ روپ وے پروجیکٹ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ مقامی عوام کی شدید مخالفت کے باوجود زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے کٹرا کے مختلف علاقوں میں جمع ہو کر نعرہ بازی کی اور منصوبے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مقامی آبادی کے تقریباً تمام طبقات نے روپ وے منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، لیکن حکام نے ان خدشات کو دور کیے بغیر پیش رفت جاری رکھی ہے۔
مظاہرین نے کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی کی پہاڑیوں اور اطراف کے قدرتی ماحول کو ترقی کے نام پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق شرائن بورڈ کو روایتی پیدل یاترا کے روحانی اور جذباتی پہلوؤں کا احترام کرنا چاہیے۔
احتجاج میں شریک افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ روپ وے منصوبہ نہ صرف درگاہ کی تقدیس پر اثر انداز ہوگا بلکہ یاترا سے وابستہ روزگار رکھنے والوں — جیسے گھوڑے والوں، پِٹھو برداروں اور چھوٹے تاجروں — کے معاشی مفادات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ادھر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روپ وے منصوبے سے مقامی لوگوں کے روزگار پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور ترقیاتی اقدامات عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہی کیے جا رہے ہیں۔
تاہم مظاہرین نے زور دیا کہ ترقی ایمان اور روایت کی قیمت پر قبول نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر عمل درآمد سے قبل وسیع پیمانے پر عوامی مشاورت کی جائے۔




