امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں و کشمیر میں محکمہ تعلیم میں ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کو اساتذہ کی براہ راست بھرتی کے لیے مزید چار سے پانچ سال تک کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ حکومت نے یونین ٹیریٹری میں ٹیچر بھرتیوں پر عائد پابندی کو برقرار رکھا۔
اسمبلی میں گلمرگ سے منتخب رکن اسمبلی پیرزادہ فاروق احمد شاہ کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے ایوان کو بتایا کہ ’’جموں و کشمیر میں اساتذہ کی اسامیاں فی الحال منجمد ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’راست بھرتی کے کوٹے کے تحت اس وقت ٹیچرز کی کوئی خالی اسامی نہیں کیونکہ رہبر تعلیم اساتذہ کو مستقل کرنے کے عمل کے باعث یہ اسامیاں سال 2030 تک فریز رکھی گئی ہیں۔‘‘
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں آخری بار اساتذہ کی براہ راست بھرتی 2012-13 میں کی گئی تھی اور اس کے بعد سے اب تک اس زمرے میں کسی بھی ٹیچر کی نئی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی۔
گلمرگ کے رکن اسمبلی نے حکومت سے خالی اسامیوں کی تفصیلات طلب کی تھیں، تاہم حکومت نے جواب دیا کہ ’’ٹیچر کیٹیگری میں کوئی آسامی دستیاب نہیں ہے۔‘‘ البتہ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 2525 لیکچررز اور 1259 ماسٹرز کی اسامیاں خالی ہیں۔ وزیر تعلیم کے مطابق لیکچررز کی 594 اسامیوں کو بھرتی کے عمل کے لیے پبلک سروس کمیشن کو بھیجا جا چکا ہے اور ان پر تقرری کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان پوسٹس کے لئے اہل اساتذہ اور ماسٹرز کو مختلف مضامین میں انچارج لیکچرر بنانے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت جنوری 2026 میں جغرافیہ کے شعبے میں 48 اساتذہ اور ماسٹرز کو ترقی دے کر اِنچارج لیکچرر مقرر کیا گیا ہے




