امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: کشمیر کے ایک سینئر صحافی اور اردو روزنامہ ندائے مشرق کے مالک و مدیر عبدالرشید شاہ سرینگر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے ۔ وہ کافی عرصے سے پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور حال ہی میں انہیں جموں سے سرینگر منتقل کیا گیا تھا۔
جون 1948 میں سرینگر کے چینکرال محلہ، حبہ کدل میں پیدا ہونے والے عبدالرشید شاہ 2001 میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ایران کے دورے کے دوران ان چند مدیروں میں شامل تھے جنہیں وزیر اعظم کے میڈیا دستے کا حصہ بنایا گیا تھا۔ وہ ان تین صحافیوں میں شامل تھے جنہیں "کوکہ پرے” کی قیادت والے حکومت نواز عسکری گروپ ‘اخوان المسلمون’ نے 1995 میں سرینگر کے پریس انکلیو سے اغوا کیا تھا۔
عبدالرشید شاہ ایک کہنہ مشق صحافی تھے جو برسہا برس تک ہاتھ سے لکھے گئے اداریوں سے کشمیر کی زبوں حالی کی تاریخ رقم کرتے تھے۔ عبدالرشید شاہ نے، جنہیں اپنے اخبار کی نسبت سے رشید مشرق کے نام سے جانا تھا ،اپنا اخبار شروع کرنے کے لیے 1992 میں اسٹیٹ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ملازمت چھوڑ دی۔ انکی ادارت میں شائع ہونے والے اخبار نے مختصر وقت میں ہی سرینگر سے شائع ہونے والے اعتدال پسند اخبارات میں ایک مقام بنایا۔ اس سے قبل وہ روزنامہ ‘الصفا’ میں پارٹ ٹائم ایڈیٹر کے طور پر کام کر چکے تھے۔
جموں و کشمیر اردو کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کے پُرآشوب حالات کے دوران شاہ کو کئی سنگین چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
کئی برسوں تک ان کے ہاتھ سے تحریر کردہ اداریے ایک حساس کشمیری کی آواز بنے رہے، جو اپنی سرزمین کی بتدریج بے اختیاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے تھے۔ زندگی کے آخری برسوں میں صحت کے مسائل کی وجہ سے وہ زیادہ تر عوامی زندگی سے دور رہے۔
بیان کے مطابق اردو کونسل کے جملہ ارکان بشمول صدر ایڈوکیٹ عبدالرشید ہانجورہ نائب صدور پروفیسر رفیع آبادی اور ڈاکٹر خلیق انجم کے علاوہ جنرل سیکرٹری جاوید ماٹجی نے انکے انتقال پر زبردست دکھ اورغم کا اظہار کیا ہے کونسل نے ان کی وفات کو اردو صحافت کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔کونسل نے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے جنت نشینی کی دعا کی ہے۔
انکے لواحقین میں انکی بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ سرینگر کے مقامی صحافیوں اور صحافی انجمنوں نے انکے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انکے فرزند ہارون رشید شاہ کے مطابق انکا جنازہ نماز ظہر کے بعد باغ مہتاب کی جامع مسجد کے احاطے میں ادا کیا جائے گا۔





