امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 9 مارچ : بارہمولہ سے رکن پارلیمان اور اس وقت قید میں موجود انجینئر رشید نے اتوار کے روز جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقدس مہینے رمضان المبارک کے دوران امن اور ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے حکام سے حالیہ احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے سوگواروں کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
جموں و کشمیر کے عوام کے نام اپنے پیغام میں انجینئر رشید نے رمضان کی مبارکباد پیش کی اور خطے میں امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مبینہ قتل کے بعد کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن کے دوران کئی سوگواروں کو حکام نے حراست میں لیا۔
انجینئر رشید نے کہا کہ خطے کے لوگوں نے اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کئی افراد سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، تاہم انہوں نے مظاہروں کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے کہا:“تشدد کا کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی مقام نہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر جیسے خطے میں جس نے گزشتہ 35 برسوں کے دوران بے پناہ نقصان اور تباہی دیکھی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگ تشدد اور عدم استحکام کی بھاری قیمت کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے انہیں رمضان کے مقدس مہینے میں امن برقرار رکھنا چاہیے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رمضان کے دوران پورے خطے میں سکون اور امن کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق تشدد مزید تشدد کو جنم دیتا ہے اور اکثر ایسے عناصر کو بہانہ فراہم کرتا ہے جو عوام کی حقیقی آواز کو دبانا چاہتے ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں معصوم نوجوان اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔
بارہمولہ کے رکن پارلیمان نے انتظامیہ سے بھی اپیل کی کہ احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے سوگواروں کو رہا کیا جائے، کیونکہ اس اقدام سے وادی میں خیر سگالی اور بھائی چارے کو فروغ مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں ایسا قدم ایک مثبت پیغام دے گا اور عوام کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
رمضان کی روحانی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ یہ مہینہ صبر، برداشت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ان اقدار کو اپنائیں۔
انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا:“آئیے رمضان کی حرمت کو برقرار رکھیں اور امن، وقار اور ہم آہنگی کے لیے مل کر کام کریں۔”





