امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 15 مارچ: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کے روز ملی ٹنسی سے متاثرہ خاندانوں کے لیے عید کے موقع پر ایک اہم اقدام کرتے ہوئے 50 متاثرین کے اہل خانہ کو سرکاری ملازمتوں کے تقرری نامے فراہم کیے۔
لوک بھون آڈیٹوریم سرینگر میں منعقدہ تقریب کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو روزگار فراہم کرنا دراصل ایک طرح کی “شرن استھلی” (سہارا) فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ سنوار سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے خاندان طویل عرصے سے سرکاری مدد کے منتظر تھے اور ملازمتوں کی فراہمی سے ان کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوگی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تمام خاندانوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقرری نامے انصاف، پہچان اور ایک نئی شروعات کی علامت ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک ملی ٹنسی سے متاثرہ 400 سے زائد خاندانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جا چکی ہیں اور باقی کیسز پر بھی انتظامیہ اور پولیس کے اشتراک سے کام جاری ہے۔
انہوں نے ایک کشمیری کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“انصاف وہ روشنی ہے جو دلوں کے اندھیروں کو ختم کر کے امید کی نئی کرن پیدا کرتی ہے۔”
ایل جی سنہا نے کہا کہ 1990 کی دہائی سے ملی ٹنسی نے ہزاروں خاندانوں کے خواب اور سکون چھین لیا، تاہم جموں و کشمیر انتظامیہ ان خاندانوں کی زندگی دوبارہ سنوارنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملی ٹنسی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔





