امت نیوز ڈیسک //
شوپیان : جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان آٹھ برس کی طویل قید کے بعد دہلی کی جیل سے رہا ہو کر وادی کشمیر اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ ان کی رہائی پر ان کے اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔
معلومات کے مطابق جمشید ظہور پال اور پرویز رشید، جو کہ شوپیان کے گنہ پورہ بلپورہ علاقے کے رہائشی ہیں، کو سنہ 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کی دفعات 18 اور 20 کے تحت دہشت گردانہ سرگرمیوں کی سازش رچنے اور ایک ممنوعہ تنظیم سے وابستگی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ آرمز ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کا الزام بھی شامل تھا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ملزمان نے طویل عرصہ تک عدالتی کارروائی کا سامنا کیا، جس دوران کیس کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ آخرکار عدالت نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں کو رہا کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد وہ آٹھ سال بعد جیل سے باہر آئے۔
قابلِ ذکر ہے کہ پرویز رشید کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کا ماضی میں بھی سیکورٹی معاملات سے واسطہ رہا ہے۔ وہ فردوس رشید لون عرف ابو عمر کے بڑے بھائی ہیں، جو جنوری 2018 میں ایک انکاؤنٹر کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ اسی جھڑپ میں ایک اور شخص، سمیر احمد لون بھی ہلاک ہوا تھا۔
دونوں نوجوانوں کی رہائی کی خبر پھیلتے ہی انکے آبائی علاقے میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، جہاں ماؤں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور عزیز و اقارب نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی۔
مقامی لوگوں نے اس موقع پر انصاف کے نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل انتظار کے بعد آخرکار سچ سامنے آیا اور دونوں نوجوانوں کو رہائی نصیب ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسے معاملات میں جلد انصاف کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ بے گناہ افراد کو طویل عرصہ تک مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔






