امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اگلے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا تو وہ اس کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا۔
صبح 5.14 بجے (بھارتی وقت کے مطابق) پر ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ "اگر ایران نے بغیر کسی دھمی کے، آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹے کے اندر مکمل طور پر نہیں کھولتا ہے تو ریاستہائے متحدہ امریکہ ان کے مختلف پاور پلانٹس کو نشانہ بنا کر ختم کر دے گا۔ یہ حملہ سب سے بڑے پاور پلانٹ سے شروع ہوگا!”
ٹرمپ کی وارننگ کے فوراً بعد ایران نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نقصان پہنچا تو وہ خطے میں ڈی سیلینیشن پلانٹس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل سے منسلک توانائی اور آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
ایرانی فوج کی آپریشنل کمانڈ خاتم الانبیاء نے فارس نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ "دھمکیوں کے بعد اگر دشمن کی جانب سے ایران کے ایندھن اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے کیے گئے تو امریکہ کے توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تمام ڈھانچوں سمیت خطے میں حکومتوں کے ڈی سیلینیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔”
ٹرمپ کے تضادات
ٹرمپ کی تازہ ترین دھمکی کے ساتھ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے بیانات اکثر انہیں کے دعوؤں اور سابقہ بیانات سے متصادم اور متضاد ہوتے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ وہ جنگ کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں، ان کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی بھیج رہی ہے اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر پڑنے والے اقتصادی اثرات کو کم کرنے کی کوشش میں، امریکہ نے دہائیوں میں پہلی بار ایرانی تیل پر پابندیوں کو جزوی طور پر ہٹا دیا ہے۔
جنگ سے متعلق مبہم اور متضاد بیانات اور دعوؤں کی بنیاد پر ٹرمپ کے ناقدین اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے اس کے لیے کوئی واضح، طویل مدتی حکمت عملی نہیں ہے۔ یہ جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں غیر متوقع راستے پر ہے اور اس کا اختتام غیر واضح ہے۔ وہیں دوسری طرف عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مالیاتی منڈیوں میں ایک اور مشکل دن کے بعد، ٹرمپ نے جمعہ کی سہ پہر اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر کہا کہ "ہم اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے بہت قریب پہنچ رہے ہیں کیونکہ ہم مشرق وسطی میں اپنی عظیم فوجی کوششوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔”
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایرانی بحری، میزائل اور صنعتی صلاحیت کو کافی حد تک ختم کر دیا ہے اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔
اس کے بعد ریپبلکن صدر نے ایک اور اشارہ دیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا معاملہ حل کیے بغیر اس تنازعے سے نکل سکتا ہے، جس کے ذریعے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کا کا پانچواں حصہ سپلائی ہوتا ہے۔ جنگ کے دوران ایرانی میزائل، ڈرون اور بارودی سرنگوں کے حملوں سے آبنائے ہرمز بیشتر ملکوں کے لیے تقریباً پوری طرح بند ہے۔






