امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: میرواعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں ماہِ رمضان کے تیسرے مسلسل جمعہ کو گھر میں نظر بند رکھا گیا اور جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے اور خطبہ دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
میرواعظ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ انہیں نظر بندی کا کوئی تحریری حکم نہیں دیا گیا، تاہم ان کے گھر کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ ان کے مطابق گلیوں اور راستوں کو خار دار تاروں سے بند کر کے علاقے میں آمد و رفت محدود کر دی گئی تاکہ وہ جامع مسجد نہ پہنچ سکیں۔
انہوں نے اپنی رہائش گاہ نگین کے باہر سکیورٹی فورسز اور پولیس گاڑیوں کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات دکھائے گئے۔
میرواعظ عمر فاروق، جو ہر جمعہ کو نوہٹہ میں واقع جامع مسجد میں خطبہ دیتے ہیں، نے کہا کہ اس طرح کی نظر بندی حکمرانوں کی گھبراہٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع مسجد ہمیشہ خطے کے مسلمانوں کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مسلم ادارے اور شناخت بعض حلقوں کے لیے باعثِ تشویش رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ تو مسلمانوں کی شناخت کو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے ایمان کو کمزور کیا جا سکتا ہے، اور یہ کوششیں بالآخر ناکام ہوں گی۔






