امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر سے سامنے آنے والے ہمدردی اور انسانی جذبے کے ان مناظر نے دلوں کو چھو لیا جہاں مختلف گوشوں، خاص طور پر شیعہ اکثریتی اضلاع بڈگام اور بارہمولہ میں لوگوں نے ایران کے "جنگ زدہ” لوگوں کی مدد کے لیے بڑے پیمانے پر چندہ مہم شروع کی ہے۔
اس چندہ مہم عید کے ایک دن بعد اتوار کو زور پکڑا۔ اس میں حصہ لیتے ہوئے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر نہ صرف نقد رقم عطیہ کی بلکہ سونے کے زیورات، تانبے کے روایتی برتنوں اور مویشیوں تک کو عطیہ کر دیا۔
مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے لوگ گھر گھر جا کر چندہ جمع کر رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے سرینگر کے رعناواری علاقے کے رہائشی اعزاز احمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل کی صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی اس غیر قانونی جنگ سے بہت بڑی تباہی ہوئی ہے۔ مہذب دنیا کم از کم ایران کے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔”
ایرانی سفارت خانے نے شکریہ کے ساتھ اس اقدام کو سراہا
بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے کشمریوں کے اس جذبے کا اعتراف کرتے ہوئے گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ مائیکروبلاگنگ سائٹ ایکس پر عطیات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے سفارت خانے نے لکھا کہ ‘یہ احسان کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور یہ ان کی یاد میں نقش رہے گا۔’
چندے میں زیورات، بچوں کی عیدی اور مویشی تک شامل
حکام کے مطابق اس مہم میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ متاثرہ ایرانی عوام کی مدد کے لیے دیے گئے عطیات کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کی صورت حال پر لوگ کس قدر حساس اور جذباتی ہیں۔ چندے کے دوران خواتین نے تو اپنے ذاتی سونے کے زیورات، گھروں کی قیمتی اشیاء تک عطیہ کر دیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اپنے مویشیوں کو بھی تعاون کے لیے پیش کر دیا۔ عہدیداروں نے بچوں کی شرکت کا جذباتی منظر شیئر کیا جنہوں نے اپنی ذاتی بچت (غلق کی رقم) اور عیدی کی رقم بھی رضاکاروں کو عطیہ کر دی۔ رضاکاروں نے کہا کہ اس جذبے نے بچوں کے قد کو بڑوں سے بھی بڑا کر دیا۔
بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے شکریہ کے ساتھ اس اقدام کو سراہا۔ عطیات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ایرانی سفارت خانے نے ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ "ہم آپ کی مہربانی اور انسانیت کو کبھی نہیں فراموش کریں گے۔ شکریہ، انڈیا۔”




