امت نیوز ڈیسک //
جموں، 23 مارچ:پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک نجی رکن بل پیش کیا ہے جس میں خطے کی انتظامی حدود ازسرِ نو مرتب کرنے اور نئی ڈویژنز، اضلاع، سب ڈویژنز اور تحصیلوں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بل “جموں و کشمیر علاقائی انتظامی تنظیمِ نو بل 2026” کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔ بل میں چناب ڈویژن کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جس کا صدر مقام ڈوڈہ ہوگا، جبکہ پیر پنجال ڈویژن کا صدر مقام راجوری مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بل کا مقصد وسیع اور دشوار گزار علاقوں میں بہتر حکمرانی، عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور علاقائی توازن کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔ مسودے کے مطابق حکومت کو اختیار ہوگا کہ وہ جغرافیائی تسلسل، انتظامی سہولت اور سماجی و ثقافتی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کو جموں، کشمیر، چناب یا پیر پنجال ڈویژن میں شامل کرے۔
کشمیر ڈویژن میں مجوزہ نئے اضلاع
ترال–اونتی پورہ ہل ضلع
عشمقام–پہلگام ہل ضلع
بیروہ ضلع
سوپور ضلع
ہندوارہ ضلع
گریز ضلع
تنگدھر–کرنہ ہل ضلع
نورآباد ہل ضلع
جموں ڈویژن میں مجوزہ نئے اضلاع
نوشہرہ ہل ضلع
بھدرواہ ہل ضلع
بانہال ہل ضلع
ٹھٹھری ہل ضلع
اکھنور ہل ضلع
بلاور ہل ضلع
کوٹرنکہ ہل ضلع
مینڈھر ہل ضلع
حکام کے مطابق متعدد مجوزہ یونٹس کو ہل ڈسٹرکٹ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ پہاڑی اور دور دراز علاقوں کے لیے خصوصی انتظامی منصوبہ بندی کی جا سکے۔
بل کو موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی سیکریٹریٹ میں غور کے لیے جمع کرا دیا گیا ہے۔ اجلاس 27 مارچ کو دوبارہ شروع ہوگا جبکہ نجی ارکان کے بلوں پر بحث کے لیے 30 مارچ اور یکم اپریل کی تاریخیں مقرر کی گئی ہیں۔
اس سے قبل اجلاس کے پہلے مرحلے میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 6 فروری کو بجٹ پیش کیا تھا، جس کے بعد ایوان نے مختلف محکموں کی گرانٹس منظور کی تھیں۔
یہ بل خطے کی انتظامی ساخت میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا ہے اور اس پر سیاسی و عوامی حلقوں میں بحث متوقع ہے۔




