• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مارچ ۲۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
آبنائے ہرمز بھارت سمیت دوست ممالک کے لیے کھول دی گئی: ایرانی وزیر خارجہ

ٹرمپ کا مذاکرات کا ڈھول اور خارگ جزیرے پر حملے کی تیاری؟

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
27/03/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد اور روز بدلتے بیانات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ ایران کے حوالے سے واشنگٹن اپنی حکمت عملی میں واضح کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کی بندش ختم نہیں کرتا تو امریکہ ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔ تاہم اس ڈیڈ لائن کے مکمل ہونے سے قبل ہی انہوں نے اچانک اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، لہٰذا وہ آئندہ پانچ روز تک ایران کی بجلی تنصیبات پر حملے روک رہے ہیں۔ایران نے اس دعوے کی فوری تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا کوئی عمل شروع نہیں ہوا۔ اس کے بعد اطلاعات سامنے آئیں کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کا ایک 15 نکاتی منصوبہ تہران تک پہنچایا گیا ہے۔اس منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی تمام کوششیں ترک کرے، یورینیم افزودگی کو محدود یا مکمل طور پر بند کرے اور اپنے موجودہ افزودہ یورینیم کے ذخائر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حوالے کرے۔ اس کے علاوہ نطنز، فردو اور اصفہان جیسی حساس جوہری تنصیبات پر سخت نگرانی یا ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ مزید ایران سے کہا گیا کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام، خصوصاً طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری محدود کرے اور خطے میں مسلح گروہوں کی مالی و عسکری مدد بند کرے۔ اس کے بدلے میں امریکہ نے مرحلہ وار اقتصادی پابندیاں نرم کرنے، ایران کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی دینے اور پرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی۔

تاہم اسکے بعد ایرانی میڈیا ادارہ پریس ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تہران نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی کے لیے ایران کی اپنی شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ایران نے اپنے مطالبات میں حملوں اور ٹارگٹڈ قتل کا خاتمہ، مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف ضمانتیں، جنگی نقصانات کا معاوضہ، ایران سے وابستہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے اختیار کو تسلیم کرنے جیسی شرائط شامل کی ہیں۔دوسری طرف سے روئٹرز کے مطابق ایران نے امریکی تجاویز کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے، لیکن اس نے واضح کیا ہے کہ براہِ راست مذاکرات کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ مذاکرات کے مترادف نہیں ہوتا۔دوسری جانب خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پینٹاگون خلیج میں مزید ہزاروں فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جن میں شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں تعینات 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے تقریباً 3 سے 4 ہزار اہلکار شامل ہو سکتے ہیں۔

اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے دشمن ایک علاقائی ملک کی مدد سے ایران کے ایک جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو اس ملک کے اہم انفراسٹرکچر کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

قالیباف کا اشارہ صاف طور پر ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کی طرف تھا۔ یہ جزیرہ ایران کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات اسی مقام سے ہوتی ہیں۔ بوشہر کے ساحل سے تقریباً 55 کلومیٹر دور واقع اس جزیرے پر بڑے آئل اسٹوریج ٹینک، پائپ لائنیں اور سپر ٹینکر لوڈنگ ٹرمینلز موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں خارگ جزیرے کے دفاع کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ جزیرے پر اضافی موبائل میزائل سسٹم تعینات کیے گئے ہیں اور ساحلی علاقوں میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی گئی ہیں۔ مغربی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکہ جزیرے پر زمینی کارروائی کے آپشن کا جائزہ لے رہا ہے۔ وہیں ان رپورٹس کے بعد ایران کا پھر سے امریکہ پر بھروسہ کرنا نہایت مشکل نظر آرہا ہے جبکہ کچھ تجزیہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ایک ماہ تک جنگ بندی کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے مشرقی وسطیٰ میں فوجی وقت بڑھانے کے لیے وقت مل جائے اور پھر وہ سخت قوت کیساتھ ایران پر چڑھائی کرے۔ان سب کے بیچ اگر موجودہ صورتحال میں سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو تجزیہ نگاروں کے مطابق آنے والے ہفتوں میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور جنگ ایک زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ایران جنگ کی صورتحال: وزیر اعظم مودی کل وزرائے اعلیٰ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جائزہ لیں گے

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ایران جنگ کی صورتحال: وزیر اعظم مودی کل وزرائے اعلیٰ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جائزہ لیں گے

ایران جنگ کی صورتحال: وزیر اعظم مودی کل وزرائے اعلیٰ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جائزہ لیں گے

26/03/2026
افواہوں کے باعث پیٹرول پمپوں پر رش، حکومت عارضی بندش پر مجبور ہو سکتی ہے: عمر عبداللہ

افواہوں کے باعث پیٹرول پمپوں پر رش، حکومت عارضی بندش پر مجبور ہو سکتی ہے: عمر عبداللہ

26/03/2026
آبنائے ہرمز بھارت سمیت دوست ممالک کے لیے کھول دی گئی: ایرانی وزیر خارجہ

آبنائے ہرمز بھارت سمیت دوست ممالک کے لیے کھول دی گئی: ایرانی وزیر خارجہ

26/03/2026
جموں–پونچھ شاہراہ پر ٹریفک حادثہ: اسسٹنٹ پروفیسر جاں بحق، شوہر کی حالت تشویشناک

جموں–پونچھ شاہراہ پر ٹریفک حادثہ: اسسٹنٹ پروفیسر جاں بحق، شوہر کی حالت تشویشناک

26/03/2026
ایل جی سنہا کا کشمیری نوجوانوں سے خطاب: ’استعماری ذہنیت ترک کرکے مادری زبان اپنائیں‘

جموں و کشمیر میں نئے ڈویژن اور اضلاع بنانے کا بل اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری

26/03/2026
کاؤنٹر انٹیلیجنس کشمیر کی جانب سے وادیٔ کشمیر کے متعدد مقامات پر چھاپے

کاؤنٹر انٹیلیجنس کشمیر کی جانب سے وادیٔ کشمیر کے متعدد مقامات پر چھاپے

26/03/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »