امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد اور روز بدلتے بیانات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ ایران کے حوالے سے واشنگٹن اپنی حکمت عملی میں واضح کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کی بندش ختم نہیں کرتا تو امریکہ ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔ تاہم اس ڈیڈ لائن کے مکمل ہونے سے قبل ہی انہوں نے اچانک اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، لہٰذا وہ آئندہ پانچ روز تک ایران کی بجلی تنصیبات پر حملے روک رہے ہیں۔ایران نے اس دعوے کی فوری تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا کوئی عمل شروع نہیں ہوا۔ اس کے بعد اطلاعات سامنے آئیں کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کا ایک 15 نکاتی منصوبہ تہران تک پہنچایا گیا ہے۔اس منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی تمام کوششیں ترک کرے، یورینیم افزودگی کو محدود یا مکمل طور پر بند کرے اور اپنے موجودہ افزودہ یورینیم کے ذخائر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حوالے کرے۔ اس کے علاوہ نطنز، فردو اور اصفہان جیسی حساس جوہری تنصیبات پر سخت نگرانی یا ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ مزید ایران سے کہا گیا کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام، خصوصاً طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری محدود کرے اور خطے میں مسلح گروہوں کی مالی و عسکری مدد بند کرے۔ اس کے بدلے میں امریکہ نے مرحلہ وار اقتصادی پابندیاں نرم کرنے، ایران کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی دینے اور پرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی۔
تاہم اسکے بعد ایرانی میڈیا ادارہ پریس ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تہران نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی کے لیے ایران کی اپنی شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ایران نے اپنے مطالبات میں حملوں اور ٹارگٹڈ قتل کا خاتمہ، مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف ضمانتیں، جنگی نقصانات کا معاوضہ، ایران سے وابستہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے اختیار کو تسلیم کرنے جیسی شرائط شامل کی ہیں۔دوسری طرف سے روئٹرز کے مطابق ایران نے امریکی تجاویز کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے، لیکن اس نے واضح کیا ہے کہ براہِ راست مذاکرات کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ مذاکرات کے مترادف نہیں ہوتا۔دوسری جانب خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پینٹاگون خلیج میں مزید ہزاروں فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جن میں شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں تعینات 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے تقریباً 3 سے 4 ہزار اہلکار شامل ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے دشمن ایک علاقائی ملک کی مدد سے ایران کے ایک جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو اس ملک کے اہم انفراسٹرکچر کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔
قالیباف کا اشارہ صاف طور پر ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کی طرف تھا۔ یہ جزیرہ ایران کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات اسی مقام سے ہوتی ہیں۔ بوشہر کے ساحل سے تقریباً 55 کلومیٹر دور واقع اس جزیرے پر بڑے آئل اسٹوریج ٹینک، پائپ لائنیں اور سپر ٹینکر لوڈنگ ٹرمینلز موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں خارگ جزیرے کے دفاع کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ جزیرے پر اضافی موبائل میزائل سسٹم تعینات کیے گئے ہیں اور ساحلی علاقوں میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی گئی ہیں۔ مغربی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکہ جزیرے پر زمینی کارروائی کے آپشن کا جائزہ لے رہا ہے۔ وہیں ان رپورٹس کے بعد ایران کا پھر سے امریکہ پر بھروسہ کرنا نہایت مشکل نظر آرہا ہے جبکہ کچھ تجزیہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ایک ماہ تک جنگ بندی کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے مشرقی وسطیٰ میں فوجی وقت بڑھانے کے لیے وقت مل جائے اور پھر وہ سخت قوت کیساتھ ایران پر چڑھائی کرے۔ان سب کے بیچ اگر موجودہ صورتحال میں سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو تجزیہ نگاروں کے مطابق آنے والے ہفتوں میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور جنگ ایک زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔




