آپسی بات چیت، بول چال جب کم ہو جاتی ہے تو ہمارے اندر غیر ضروری وسوسے جاگ اٹھتے ہیں نا امیدی مایوسی بدگمانی برے خیال بد ظنی بلا وجہ ہمارے اندر گھر کر جاتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے ہم خود بہ خود اندھیرے راستے کی طرف نکل پڑتے ہیں بجائے اس کے کہ آپس میں صلح مشورہ کیا جائے بہتر صلاح لی جائے اہم پہلووں پہ بات کی جائے اور درمیانی کوئی راستہ نکالا جائے اور مشکل حالات میں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل جائے تھوڑی سی توجہ تھوڑی سی حوصلا افزائی کرنے سے کسی لاچار کی ہمت ، خود اعتمادی بڑھانے میں اہم کردار ادا ہو سکتا ہے اُمید آسرا ایک ایسا چراغ ہے جو مایوس، بے آس، ڈر خوف و دہشت سے باہر نکالنے میں ہماری مدد کرتا ہے اور ڈرا ہوا انسان بہتری کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر بد قسمتی سے مثبت انداز میں بات چیت کا سلسلہ نہ تب تھا نہ آج ہے اپنا شعور اجاگر کرنے کی بجائے انسان نے ہمیشہ خاموشی اختیار کی ہے جہاں بدگمانی اتنے جالے بن چکی ہوتی ہے کہ جزباتوں کی ریشمی ڈور کہیں جگنووں کی روشنی میں ٹوٹتی جاتی ہے کیونکہ ہم اپنے آپ کو منواتے نہیں بلکہ اپنے دل کی آواز کو سننے سے پہلے ہی ہم اپنے کان بند کر لیتے ہیں اور پھر رات دن ایک جیسا دکھنے لگتا ہے آپسی رشتے گزرے دور میں بھی نازک ڈور سے بندھے رہے ہیں اور آج تک وہ نازک ڈور مضبوط نہ ہو سکی انا پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے خود کو کبھی اُن مجالس میں شرکت کرائی ہی نہیں جہاں حق ادائیگی ہو سکے اچھی اور سچی محبت کی کہانی سنائی جاتی تب بھی گھر گھرستی،روٹی کپڑا اور مکان کی ضرورتیں اور کہیں غرور وتکبر دل کو ہوا لگنے نہیں دیتے تھے ایسے میں انسان نے دل کی سچی کیفیت کو بھول کر ذہنوں پہ بوجھ ڈالتے رہے.
مشکلوں سے لڑ جھگڑ کر وقت کی ریس سے نا سمجھ انسان جیت تو جاتا ہے مگر کہیں نہ کہیں وہ پیار بھرے جذبات دل کی گہرائیوں میں چھپے خوبصورت احساسات کو دبانے میں ماہر ہو جاتا ہے اور یہ خسارے چلتی عمر کے ساتھ سزا بنتے جاتے ہیں اور انسان صرف مالی ضرورت بن کر رہ جاتا ہے اپنے آس پاس رہنے والوں کو جینے کی ترتیب تو مل جاتی ہے مگر مخلص مثبت فہم و بصیرت رکھنے والا انسان چاہئے وہ مرد ہو یا عورت ہر حال میں اپنی مرضی و منشا کو کہیں داو پر لگا بیٹھتا ہے اسے اپنی دل کی صحت کی پرواہ نہیں رہتی اور اپنی خواہشات کو اپنی ذاتی گفتگو کو ائے دن دفن کر دیتا ہے دوسروں کی ضرورتیں دوسروں کے آرام آسائش کے لیے اپنی مرضی کو دوسروں کے لیے وقف کر دیتا ہے ان سب کے بیچ اگر کچھ بدلتا ہے تو وہ ہے ہمارے جذبات جو اپنے خواب دیکھنے والے کو ہمیشہ میسر نہیں ہوتے دل کے رشتے جب دل کی بجائے دماغ میں جگہ پکڑتے ہیں تو
پھر راشن پانی تک یا پھر گھر پریوار کی خراب طبیعت کے مسئلے مسائل پر آ ٹھہرتی ہے اور اس دوران خاموش احساس نے لمبی چادر لپیٹ لی ہوتی ہے اور خود غرضی نے اپنا مقام اونچا کر لیا ہوتا ہے دبی سانسوں کا تو کہیں ذکر ہی نہیں ہوتا نہ اُن انکہے جذباتوں کی کوئی آواز بنتا ہے جو بیٹھ کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہی جاتی وہ لمحے گزر جاتے ہیں جہاں پیٹھ تھپتھپانے کا کبھی رواج ہوا کرتا تھا.
اور وقت پھر اپنی پکی دیوار چڑھا چکا ہوتا ہے جہاں صرف ضرورتوں نے اپنی فہرست لکھی ہوتی ہے اور دل کی باتوں نے سخت لہجہ اپنایا ہوتا ہے ایک جاگتا ہے تو دوسرا گم سم تو تیسرا گہری نیند میں تو کوئی روزگار کی تلاش میں تو کوئی تعلیم کے لیے وقت کا غلام ہو جاتا ہے یعنی ہر کوئی اپنی ایڈیاں رگڑتا دکھائی دیتا ہے فرق اتنا ہے کہ کوئی اپنے فائدے کے لیے جیتا ہے تو کوئی دوسروں کا فائدہ بن جاتا ہے.
یہ مختلف بدلتے بگڑتے مزاج تعلقات میں نفرت پیدا کرتے ہیں اعتماد ختم کرتے ہیں ایسے میں ہم لوگ اپنی زندگی اپنی مرضی اور پسند کو نہ سمجھتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں اور پتھر بن کر ایک طرف ہو جاتے ہیں یا سوکھے چنار کی طرح جس کی چھاؤں نہیں مگر گرے ہوے پتوں کا شور ضرور ہوتا ہے جن کا اب جاتی بہار میں کوئی معنی نہیں رہتا انسان زندگی کی بھاگ دوڑ میں تقریبا تمام کاموں کو ترتیب تو دے بیٹھتا ہے لیکن اپنی خواہشوں کو اپنے سپنوں کو ترتیب نہیں دے پاتا ہے.
اور ایسے حالات عموماً انسان کو کمزور کر دیتے ہیں اور تب ائے دن ہمارے انٹرنیٹ پہ کچھ موٹیویشنل اسپیکر موجود رہتے ہیں جو صرف انسان کو پرکھنے کی نشانیاں بیان کرتے نظر آتے ہیں جو لوگوں کو آپس میں جڑنے نہیں دیتے ہیں بلکہ صرف چالیں بتاتے اور سکھاتے ہیں نمبر ایک نمبر دو وغیرہ وغیرہ اشارے بتانا شروع کرتے ہیں یعنی کسی کو کسی سے سمجھوتہ کرنے کی گنجائش کو پوری طرح سے نا ممکن کر دیتے ہیں اور صرف شکوک و شبہات پیدا کر کے لوگوں کا نقصان اور اپنا فائدہ اٹھاتے ہیں اور رشتوں میں پیار ،محبت، بھروسے کی طاقت کو کم اور بدگمانی جیسی نشانیاں زیادہ پیش کرتے ہیں کہ ایسے کیسے اور کیسے ایسے.
ہمیں ایسے لوگوں کو سننا بند کرنا ہوگا جو عام انسان کے ذہن کو دھو ڈالتے ہیں ۔۔۔
ہمیں بات کرنے کی عادت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اپنے اعتراض شکایتیں درج کرنی ہونگی اپنوں کی بات اپنوں سے کرنے کی عادت بنانی ہوگی محافظ بننا چاہتے ہیں تو خود اعتمادی بڑھانے کی ضرورت ہے رہنما بننا چاہتے ہیں تو رہنمائی سیکھنی ہوگی کسی کی قسمت میں شامل ہوے ہیں تو قسمت کو سنوارنا اور ماتھے کی شکن کو ہٹانا ہوگا بھاگتی دوڑ میں اگر آپ کسی کے لیے رکے ہیں تو یہ آپ کی اچھائی ہے اور جو آپ کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہے اسے گزرے وقت کی تمام بے قدری کا معاوضہ صرف پیار عزت و احترام سے ادا کیجئے اپنی اصلح خود کرئے ورنہ یہ سوشل میڈیا پہ آئے کچھ سپیرے اسپیکر بین بجا کر سیدھے سادے لوگوں کو نچا نچا کر بھگا بھگا کر تھکا دیں گے.
اپنی بات اپنوں سے جاری رکھیں اور اپنی مرضی اپنی پسند اپنے مدے اٹھانے اور سلجھانے ہونگے.
آم کھانے ہیں تو آم کے پیڑ لگانے ہونگے کریلے کی بیل پہ کھیرے نہیں اگتے۔۔۔۔۔۔۔۔بدگمانی ایک گناہ ایک بیماری ہے جو انسان کا سکون آپسی محبت اور معاشرے کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے.






