امت نیوز ڈیسک ///
سری نگر، 3 اپریل:میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے آج جامع مسجد سری نگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے بعد انہیں اس مرکزی عبادت گاہ میں عوام سے مخاطب ہونے کا موقع ملا ہے، تاہم انہوں نے شکایت کی کہ حکام کی جانب سے بار بار جامع مسجد تک رسائی محدود کی جاتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عید کی نماز کی اجازت نہیں دی گئی اور رمضان المبارک کے دوران کئی جمعے، بشمول شبِ قدر اور جمعۃ الوداع، پر بھی پابندیاں عائد رہیں۔ ان کے مطابق یہ پابندیاں صرف ایک مسجد تک محدود نہیں بلکہ اس سے خطے کی “بڑی حقیقت” عیاں ہوتی ہے، جہاں معمول کی صورتحال کا دعویٰ کرتے ہوئے عوام کے بنیادی حقوق کو محدود کیا جا رہا ہے۔
میرواعظ نے گاندربل کے ارہامہ علاقے میں ایک نوجوان، راشد احمد مغل، کی مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاکت پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ کے مطابق نوجوان کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ ایک پارٹ ٹائم کمپیوٹر آپریٹر تھا۔ میرواعظ نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس بار انصاف فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ متوفی کی لاش اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی گئی، جسے انہوں نے غیر انسانی عمل قرار دیا۔
اپنے خطاب میں میرواعظ نے مزید کہا کہ آئے روز مختلف ایجنسیاں جیسے ایس آئی اے، سی آئی کے، سائبر سیل، اے سی بی اور این آئی اے کی جانب سے گرفتاریوں، کیسز اور چارج شیٹس کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، جس سے معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پالیسیوں سے نہ تو پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ترقی ممکن ہے، اگر یہی حکام کا مقصد ہے۔





