امت نیوز ڈیسک //
تہران / واشنگٹن: امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں ایک امریکی جنگی طیارہ مار گرایا گیا ہے، جس کے بعد امریکی فوج نے فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق طیارہ گرنے کے بعد عملے کی تلاش جاری ہے، تاہم ابھی تک لاپتہ پائلٹس کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آئیں۔ ایرانی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ تلاش کے باوجود عملے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عوام کو مبینہ طور پر “دشمن پائلٹ” کو پکڑنے پر انعام دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز، جن کی تصدیق CNN نے کی، میں صوبہ خوزستان کے اوپر نچلی پرواز کرتے ہوئے طیارے اور ہیلی کاپٹرز کو دیکھا جا سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر ریسکیو مشن کا حصہ ہیں۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ طیارہ ایران کے کس علاقے میں گرا، تاہم ویڈیوز کے مطابق یہ واقعہ خوزستان صوبے میں دریائے کارون کے قریب پیش آیا، جو تہران سے تقریباً 470 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس واقعے پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس اور امریکی فوج نے ابھی تک طیارے کی نوعیت یا عملے کی حالت کے بارے میں باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
ایرانی میڈیا نے طیارے کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ غالباً F-15 طیارے کے حصے معلوم ہوتے ہیں، حالانکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے F-35 اسٹیلتھ طیارہ مار گرایا ہے۔
یہ واقعہ جاری ایران-امریکہ کشیدگی کے دوران پہلا موقع ہے جب ایران کے اندر کسی امریکی طیارے کو مار گرانے کی تصدیق امریکی ذرائع نے بھی کی ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔(سی این این)





