امت نیوز ڈیسک //
جموں: چار سال کے طویل انتظار کے بعد جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز (JKAS) کے سینئر افسران کو انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز (IAS) میں شامل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک سلیکشن کمیٹی بنائی گئی ہے جس کا چیئرمین یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کا ایک رکن ہوگا۔
حکام کے مطابق اس کمیٹی کو 23 خالی اسامیوں کو پُر کرنا ہے جو 2022 سے زیر التوا تھیں۔ اس سال 28 نشستیں پر کرنی تھیں لیکن صرف 16 افسران کو ہی شامل کیا گیا کیونکہ بعض افسران نے انکار کیا تھا، اور بعض کے خلاف کیس زیر سماعت تھے اور ایک افسر کے انتقال کے باعث معاملہ رک گیا تھا۔
ایک افسر نے بتایا کہ کمیٹی میں چیف سیکریٹری جموں و کشمیر، ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی کم از کم 69 JKAS افسران کی سالانہ کارکردگی رپورٹس (APR) کا جائزہ لے گی تاکہ 23 اسامیوں کو پُر کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ایس میں شامل ہونے کے لیے افسران کی کارکردگی رپورٹس میں "بہترین” درجہ ہونا ضروری ہے، صرف اچھا درجہ کافی نہیں ہوگا۔ کمیٹی افسران کی کارکردگی، صاف شبیہ، شروع کیے گئے منصوبے اور دیگر انتظامی کاموں کا بھی جائزہ لے گی۔
امید ہے کہ اس ماہ کے آخر تک اجلاس منعقد ہوگا اور 1999 بیچ کے JKAS افسران کو IAS میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے بعد مزید خالی اسامیوں کی نشاندہی ہوگی اور مزید افسران کو بھی شامل کیا جا سکے گا، جو کافی عرصے سے ترقی نہ ملنے کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔
حکام نے یہ بھی خدشاہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ افسران IAS میں شمولیت کو قبول نہیں کریں گے کیونکہ اس سے ان کی موجودہ تنخواہ اور مراعات کم ہو سکتی ہیں، کیونکہ وہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں ۔ جبکہ وہ افسران زیادہ فائدہ اٹھائیں گے جن کی سروس ابھی باقی ہے، کیونکہ انہیں ترقی اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے۔ یاد رہے کہ JKAS سے IAS میں شمولیت کا عمل 2010 سے 2022 تک قانونی اور سینیارٹی مسائل کی وجہ سے رکا ہوا تھا، لیکن اب یہ رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں۔





