امت نیوز ڈیسک //
ایران اور امریکہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی (سیز فائر) پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد فوری خونریزی روکنا اور مزید سفارتی مذاکرات کے لیے وقت فراہم کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اگر ایران نے مقررہ شرائط پوری نہ کیں تو "ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی۔” تاہم، پاکستانی ثالثی کے نتیجے میں معاہدہ ممکن ہوا اور ایران نے بھی فائر بندی کی یقین دہانی کرائی۔
جنگ بندی کے اہم نکات
دونوں ممالک نے تمام فوجی کارروائیوں کو روکنے کا فیصلہ کیا۔
ایران نے اسٹریٹ آف ہرمز میں بحری ٹریفک کی محفوظ گزرگاہ کی ضمانت دی، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہے۔
چین نے مذاکرات میں کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا، جس سے تہران مذاکرات کی میز پر آیا۔
اسرائیل نے سیز فائر کی حمایت کی، مگر کہا کہ یہ معاہدہ لبنان میں جاری لڑائی پر لاگو نہیں ہوگا۔
ایران کی 10 نکاتی شرائط
1. جارحانہ کارروائیوں کا فوری خاتمہ
2. اسٹریٹ آف ہرمز پر ایران کا کنٹرول اور محفوظ گزرگاہ کی ضمانت
3. امریکہ کی تمام فوجی افواج کا خطے سے انخلا
4. تمام اقوام متحدہ اور IAEA کی پابندیوں کا خاتمہ
5. ایران کے بلاک شدہ اثاثوں کی رہائی
6. معاوضے کی ادائیگی
7. لبنان میں اسلامی مزاحمت کے خلاف جنگ بند
8. دیگر اقتصادی و سیاسی تحفظات کی یقین دہانی
9. عالمی سفارتی تعاون کو فروغ
10. مزید مذاکرات کے لیے دو ہفتے کا عرصہ
عالمی ردعمل
تیل کی قیمتیں گر گئیں: برینٹ کروڈ کی قیمت 109.77 ڈالر سے کم ہو کر 95.06 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
پاکستان کی ثالثی: وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کے لیے مدعو کیا۔
نیوزی لینڈ، ترکی اور مصر نے بھی امن کی کوششوں کی حمایت کی۔






