امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 8 اپریل: نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کا واحد عملی طریقہ مستقل بات چیت ہے اور تاریخی طور پر جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں بنی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نے امریکہ اور ایران جیسے ممالک کی مذاکرات میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ اقدام کشیدگی کم کرنے کی سمت میں مثبت قدم ہے۔
انہوں نے کہا، "جنگ کسی بھی چیز کا حل نہیں ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوئی اور کبھی نہیں ہوگی۔ لہٰذا میں ان تمام ممالک کو مبارکباد دیتا ہوں جو بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
عبداللہ نے جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر عالمی استحکام اور معیشت پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے تنازع کو توانائی کے وسائل اور بین الاقوامی مارکیٹ میں خلل سے جوڑا۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے دنیا بھر میں معیشتوں کو متاثر کیا ہے اور جمو و کشمیر کے وہ لوگ جو خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں، ان کی روزگار کی صورتحال بھی خطرے میں ہے۔
عبداللہ نے اقتصادی غیر یقینی صورتحال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ عام شہریوں کے لیے براہ راست اثرات رکھتی ہے، جیسے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مالی بوجھ میں اضافہ۔
انہوں نے کہا، "انسانیت کو جیتنا چاہیے۔ ہم امن چاہتے ہیں، جنگ نہیں۔” انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو عالمی چیلنجز مزید بڑھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے چاہئیں اور امن کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، اور ممالک بشمول پاکستان سے کہا کہ تصادم سے گریز کریں اور تعاون پر مبنی رویہ اپنائیں۔
فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور دیرپا امن قائم ہوگا، تاہم یہ بھی انتباہ دیا کہ ناکامی کے نتیجے میں اقتصادی اور انسانی بحران پیدا ہوسکتا ہے





