• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, اپریل ۱۰, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

آدابِ عامہ اور حق الطریق: ایک مطالعہ

الطاف جمیل شاہ /سوپور کشمیر

by امت ڈیسک
10/04/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ابتدائیہ :: عوامی مقامات کا فلسفہ اور معاشرتی اہمیت

​انسانی تہذیب کا ارتقاء محض مادی ترقی یا بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کا نام نہیں، بلکہ یہ ان اخلاقی اور سماجی ضوابط کی تدوین کا عمل ہے جو اجتماعی زندگی کو سہل اور پرامن بناتے ہیں۔ عوامی مقامات، جن میں سڑکیں، گلیاں، پارکس، بازار اور سماجی مراکز شامل ہیں، کسی بھی معاشرے کا "ڈرائنگ روم” تصور کیے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر فرد کا رویہ اس کی تربیت، شعور اور اخلاقی پختگی کا عکاس ہوتا ہے۔ ماہرینِ عمرانیات، جیسے ناربرٹ الیاس، کے مطابق آداب و اطوار انسانی گروہوں کی باہمی زندگی کی پیداوار ہیں جو سماجی نظم کو برقرار رکھنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں ۔

​اسلامی تعلیمات اور جدید عمرانی نظریات اس نکتے پر متفق ہیں کہ عوامی جگہوں کے کچھ مخصوص آداب ہوتے ہیں جن کا التزام فرد پر نہ صرف اپنی ذات کی حد تک لازم ہے، بلکہ اسے دوسروں کو بھی ان کا پابند بنانا ہوتا ہے تاکہ معاشرتی نظم برقرار رہے ۔ یہ مقالہ عوامی مقامات کے آداب، ان کی شرعی و قانونی حیثیت، اور فرد کی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کا ایک ہمہ جہت مطالعہ پیش کرتا ہے۔

​پہلا باب: اسلامی اخلاقیات کا فریم ورک
​اسلام میں اخلاق کو ایمان کا جوہر قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

​أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا("مومنوں میں سب سے کامل ایمان اس کا ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں” ۔)

​عوامی مقامات پر اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک عبادت ہے، کیونکہ یہ مقامات مشترکہ ملکیت (Public Trust) ہوتے ہیں اور ان کا احترام دراصل پوری قوم کے حقوق کا احترام ہے ۔ اسلام نے "حقوق العباد” کے تصور کو "حقوق اللہ” کے برابر اہمیت دے کر یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی انسان کی دل آزاری یا عوامی نظم میں خلل ڈالنا سنگین اخلاقی جرم ہے ۔

​دوسرا باب: حق الطریق (راستے کے حقوق) کی تفصیلی تشریح

​سڑک اور گلی کے آداب کے حوالے سے اسلام نے "حق الطریق” کا ایک ایسا تصور پیش کیا ہے جو جدید شہری زندگی کے لیے ایک مکمل ضابطہ فراہم کرتا ہے۔ بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث میں راستے کے حقوق کو انتہائی جامعیت سے بیان کیا گیا ہے ۔

​1. نبویؐ انتباہ اور راستے کے پانچ حقوق
​نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو راستوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ جب صحابہ نے اپنی سماجی ضرورت پیش کی تو آپ ﷺ نے اسے چند شرائط کے ساتھ مشروط کیا:

​إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا. فَقَالَ: فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ. قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ
"تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس وہاں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ ہم وہاں باتیں کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم نہیں مانتے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔ انہوں نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہیں نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کو دور کرنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا” ۔

​2. غضِ بصر (نگاہوں کی حفاظت)

​عوامی مقامات پر پہلا ادب نگاہوں کو نیچا رکھنا ہے۔ یہ حکم مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے یکساں ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
​قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ
"مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں… یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے” (سورۃ النور: 30)۔

​جدید تحقیق کے مطابق، جب عوامی مقامات پر پرائیویسی اور نظروں کے تقدس کا احترام کیا جاتا ہے، تو لوگوں، خاص طور پر خواتین میں تحفظ کا احساس بڑھتا ہے ۔

​3. کفِ اذا (تکلیف دہ چیزوں کا خاتمہ)
​راستے کا دوسرا اہم حق کسی کو تکلیف دینے سے رکنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ راستے سے تکلیف دہ چیز (جیسے کانٹا، پتھر یا گندگی) ہٹانا ایمان کی ایک شاخ ہے ۔ امام نووی کے مطابق "اذا” سے مراد ہر وہ چیز ہے جو راہگیر کو مادی یا معنوی طور پر پریشان کرے ۔ اس میں غلط پارکنگ، راستے میں سامان رکھنا، یا گندگی پھیلانا شامل ہے ۔

​4. ردِ سلام (سلام کا جواب)
​سلام کا تبادلہ اجنبیوں کے درمیان خلیج کو ختم کرتا ہے اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق قرار دیا ہے ۔

​5. امر بالمعروف و نہی عن المنکر
​عوامی مقامات پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص کسی غلط حرکت (جیسے وینڈالزم یا چھیڑ چھاڑ) میں ملوث ہو، تو اسے حکمت کے ساتھ روکا جائے ۔

​تیسرا باب: عوامی املاک کی حفاظت اور "حرمتِ مالِ عام”

​عوامی املاک ، جیسے سڑکیں، اسٹریٹ لائٹس، پارکس اور ہسپتال، دراصل پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ اسلام میں عوامی مال کی حرمت ذاتی مال سے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس میں پوری قوم کا حق شامل ہوتا ہے ۔

​1. عوامی مال کی چوری اور نقصان
​کسی سرکاری یا عوامی شے کو نقصان پہنچانا "غلول” (خیانت) کے زمرے میں آتا ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہے:

​وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ
"اور اپنے مالوں کو آپس میں ناحق طریقے سے مت کھاؤ” (سورۃ البقرہ: 188) ۔

​علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی کے مطابق عوامی املاک پر ناجائز قبضہ کرنا پوری عوام کے مال کی چوری ہے ۔

​2. وینڈالزم اور تخریب کاری
​عوامی مقامات پر بینچوں کو توڑنا، دیواروں پر لکھنا ، یا پودوں کو اکھاڑنا زمین پر فساد پھیلانے کے مترادف ہے ۔ امام قرطبی کے مطابق ہر وہ عمل جو نافع چیز کو ضائع کرے وہ فساد ہے، جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے ۔

​چوتھا باب: بازاروں اور تجارتی مراکز کے آداب

​بازار وہ جگہ ہے جہاں معاشی تعامل ہوتا ہے، لیکن یہاں بھی اخلاقی ضوابط لازم ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بہترین جگہیں مسجدیں اور بدترین بازار ہیں (کیونکہ وہاں جھوٹ اور غفلت زیادہ ہوتی ہے) ۔

​1. بازار میں رویے کی شائستگی
​بازار میں آواز کو بلند کرنے (سخَّاب) اور لڑائی جھگڑے سے منع کیا گیا ہے ۔ حضرت عمر فاروقؓ بازاروں کا دورہ کرتے اور فرماتے:
​لَا يَبِيعُ فِي سُوقِنَا إِلَّا مَنْ قَدْ تَفَقَّهَ فِي الدِّينِ
"ہمارے بازار میں صرف وہی شخص تجارت کرے جو دین کی سمجھ (فقہ) رکھتا ہو” ۔

​ 2. تجارتی دیانتداری
ناپ تول میں کمی (تطفیف) اور دھوکہ دہی عوامی مقامات پر سب سے بڑی برائی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے غلہ فروخت کرنے والے کو ہدایت فرمائی:
​أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ! مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي
"تم نے (گیلا اناج) اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں؟ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں” ۔

​پانچواں باب: ماحولیاتی صفائی اور صحتِ عامہ

عوامی مقامات کی صفائی کا براہ راست تعلق عوامی صحت اور ایمان سے ہے ۔

​1. اللعانین (لعنت کے اسباب) سے بچنا
​اسلام نے ان لوگوں پر سخت تنبیہ کی ہے جو عوامی جگہوں پر گندگی پھیلاتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
​اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ: الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ فِي ظِلِّهِمْ
"ان دو کاموں سے بچو جو لعنت کا سبب بنتے ہیں: لوگوں کے راستے میں یا ان کے (بیٹھنے کے) سائے میں رفع حاجت کرنا” ۔
​اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی جگہوں پر کچرا پھینکنا یا ماحول کو آلودہ کرنا اخلاقی طور پر "لعنت” کا کام ہے ۔

​2. سڑکوں پر تھوکنے اور غلاظت کی ممانعت
​جدید دور میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی، پان کی پیک تھوکنا، یا نالیاں بند کرنا "کفِ اذا” کے خلاف ہے ۔ مساجد اور عوامی مراکز میں صفائی برقرار رکھنا صدقہ ہے ۔

​چھٹا باب: ٹریفک اور ڈرائیونگ کے جدید آداب

​موجودہ دور میں سڑکوں پر ڈرائیونگ انسان کے اخلاق کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا شرعی طور پر بھی ضروری ہے کیونکہ یہ انسانی جانوں کی حفاظت کا ذریعہ ہیں ۔

​1. صبر و تحمل اور رفتار
​تیز رفتاری اور جارحانہ ڈرائیونگ شیطان کا عمل قرار دی گئی ہے ۔
​التَّأَنِّي مِنَ اللهِ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ
"بردباری اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے” ۔

​2. غلط پارکنگ اور راستے کی بندش
​کسی کا راستہ روکنا گناہ ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ایک غزوہ کے دوران اعلان کروایا کہ جس نے راستہ تنگ کیا یا منزل کو بلاک کیا، اس کا جہاد (اجر) نہیں ۔ فٹ پاتھوں پر دکانوں کا سامان رکھنا یا سڑک کے بیچوں بیچ گاڑی کھڑی کر کے بات کرنا دوسروں کے حقوق کی پامالی ہے ۔

​ساتواں باب: ڈیجیٹل دور اور عوامی پرائیویسی

​سمارٹ فونز نے عوامی آداب کے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ دوسروں کی نجی زندگی کا احترام عوامی مقامات پر لازم ہے ۔

​1. فون اور سپیکر فون کا استعمال
​عوامی جگہوں، ہسپتالوں یا بسوں میں اونچی آواز میں سپیکر پر بات کرنا یا ویڈیوز دیکھنا دوسروں کے پرسکون رہنے کے حق پر ڈاکہ ہے ۔ مہذب طریقہ یہ ہے کہ ہیڈ فون کا استعمال کیا جائے یا آواز نیچی رکھی جائے ۔

​2. سیلفی اور فوٹوگرافی کے آداب
​دوسروں کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر بنانا یا انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کرنا اخلاقی و قانونی جرم ہے ۔ قرآن کی آیت "لا تجسسوا” (تجسس نہ کرو) کا اطلاق ڈیجیٹل نگرانی پر بھی ہوتا ہے ۔

​آٹھواں باب: نیکی کی دعوت اور دوسروں کی اصلاح کا طریقہ

​عوامی مقامات پر دوسروں کو آداب کا پابند بنانا ایک نازک کام ہے جس کے لیے قرآن نے "حکمت” اور "موعظہ حسنہ” کی شرط رکھی ہے ۔

​1. نرمی اور حکمت
​کسی کو عوامی مقام پر ٹوکتے وقت اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی:
​وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
"اور تجھے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر، بے شک یہ ہمت کے کام ہیں” (سورۃ لقمان: 17) ۔
​یہ اشارہ ہے کہ عوامی اصلاح کے کام میں تلخی کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن ناصح کو صابر ہونا چاہیے ۔

​2. انفرادی و اجتماعی ذمہ داری
​تاریخِ اسلام میں "حسبہ” کا ادارہ عوامی مقامات کی نگرانی کرتا تھا۔ "محتسب” کا کام بازاروں میں ملاوٹ روکنا، سڑکوں کی صفائی کو یقینی بنانا اور اخلاقی حدود کا تحفظ کرنا تھا ۔ آج ہر شہری کو اپنے طور پر "محتسب” بننا چاہیے تاکہ معاشرہ خود بخود درست ہو سکے۔

​نواں باب: شہری منصوبہ بندی اور حکومتی ذمہ داری

​عوامی آداب صرف فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسے مقامات فراہم کرے جو انسانی وقار کے مطابق ہوں ۔

​1. پلیس میکنگ
​شہروں کو گاڑیوں کے بجائے لوگوں کے لیے ڈیزائن کرنا چاہیے ۔ کشادہ فٹ پاتھ، معذور افراد کے لیے ریمپ، اور مناسب کچرا دانوں کی موجودگی لوگوں کو خود بخود آداب کی پابندی کی طرف مائل کرتی ہے ۔

​2. سبزہ زار اور سماجی صحت
​پارکس اور ہریالی کے مقامات انسانی ذہنی دباؤ کو کم کرتے ہیں اور سماجی روابط کو مضبوط بناتے ہیں ۔ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ جہاں عوامی مقامات بہتر ہوتے ہیں، وہاں جرائم کی شرح کم ہوتی ہے ۔

​ تجاویز

​عوامی مقامات کے آداب فرد اور معاشرے کی مشترکہ بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ آداب محض ضابطوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرت کا اظہار ہیں ۔ مقالے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

​راستے کے حقوق: غضِ بصر، کفِ اذا، اور سلام کا تبادلہ ایک پرامن سڑک کی بنیاد ہے ۔

​عوامی املاک: ان کی حفاظت شرعی فریضہ ہے؛ انہیں نقصان پہنچانا پوری قوم کے ساتھ خیانت ہے ۔

​ڈیجیٹل شائستگی: عوامی جگہوں پر فون اور کیمرے کا استعمال دوسروں کی پرائیویسی کو ملحوظ رکھ کر کرنا چاہیے ۔

​حکیمانہ اصلاح: دوسروں کو آداب کی تلقین کرتے وقت نرمی اور صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔

​آخر بات، کسی بھی قوم کی عظمت کا اندازہ اس کے عجائب گھروں سے نہیں، بلکہ اس کی سڑکوں اور گلیوں میں چلنے والے شہریوں کے رویوں سے لگایا جاتا ہے ۔ جب ہم اپنی ذات کو عوامی آداب کا پابند بناتے ہیں، تو ہم دراصل انسانیت کا احترام کر رہے ہوتے ہیں ۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بے چینی کی زہریلی لہریں چہار سو: وجوہات، تدارک اور مستقبل

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

بے چینی کی زہریلی لہریں چہار سو: وجوہات، تدارک اور مستقبل

10/04/2026
حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا اپنے منفرد اور بلند مقام

حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا اپنے منفرد اور بلند مقام

03/04/2026
جب “مفت علاج” صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے: کشمیر کی زمینی حقیقت

جب “مفت علاج” صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے: کشمیر کی زمینی حقیقت

03/04/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

جھوٹی پرتیں: اصلیت میں ہی عافیت ہے

20/03/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

تعلیمی میدان میں نجی اور سرکاری اداروں کی بیک وقت ضرورت

13/03/2026
اسلام میں نیت: ہر عمل کی بنیادی روح

اسلام میں نیت: ہر عمل کی بنیادی روح

27/02/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »