جہاں بھی ہم نظر دوڑاتے ہیں، ہر انسان کی اصلی پرت کے اوپر پرتوں کے انبار لگے نظر آتے ہیں۔ کسی نے مذہب کی پرت چڑھائی ہے تو کسی نے ذات کی موٹی پرت اوڑھ رکھی ہے۔ کوئی نظریاتی پرت کا پاسباں بنا ہے، تو کوئی قوم پرستی کا بت اپنے دل کے گھر میں سجائے بیٹھا ہے۔ کوئی خوبصورتی کے پرتوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے، تو کوئی بدصورتی کی غلیظ تہوں میں کھویا ہوا ہے۔ الغرض، اس کارخانۂ دنیا میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو مصنوعی پرتوں میں لپٹا نہ ہو۔
اس ضمن میں اوشو رجنیش کی ایک بات مجھے بہت پسند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں جو انسان اپنی اصلی شکل میں دکھائی دیتا ہے، اسے پھر کسی اور پرت کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ خالص ہو جاتا ہے۔ پھر نہ وہ چھوٹا بڑا رہتا ہے، نہ کالا سفید، نہ ہندو مسلمان اور نہ برہمن دلت۔ وہ ان سب سے ماورا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو انسان اپنی اصلی حالت پر برقرار نہیں رہتا، وہ ہر کچھ بننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسے چہروں پر چہرے لگانے پڑتے ہیں۔ یہاں پر گیبریل اوکارا کی بات معقول معلوم ہوتی ہے کہ آج کی اس مادیت پسند دنیا میں، ہر انسان نے چہروں پر چہرے لگا کر اپنی اصلی شخصیت سے غفلت برتی ہے۔ سائنس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب سبھی لوگ پرتوں کے عادی ہو جاتے ہیں، تو انہیں چہرے تبدیل کرنے کے درمیان پڑنے والے اس وقفے کا ادراک بھی نہیں رہتا، اور وہ کچھ سے کچھ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یعنی مصنوعی تہوں کا چلن اتنا عام ہو گیا ہے کہ لوگوں کو یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ کس جگہ، کتنی دیر کے لیے اور کون سا چہرہ لگا کر لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو پارسا ثابت کرنا ہے۔
انسان کی بناوٹ متضاد چیزوں کا سنگم ہے۔ جتنی اچھائیاں انسان میں ودیعت کی گئی ہیں، اتنی ہی برائیاں بھی رکھی گئی ہیں۔ لیکن وہ کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے انسان جھوٹی پرتوں کا اتنا شیدائی ہو جاتا ہے کہ انانیت کے بھنور میں کنڈیشننگ کی ایسی بری عادت پڑ جاتی ہے کہ اصلیت کہیں کھو جاتی ہے اور مصنوعی دنیا کی دل موہ لینے والی عارضی چمک دمک، دائمی رونق کو پھیکی کر دیتی ہے؟ کچھ وجوہات کا ذکر مندرجہ ذیل سطروں میں کر رہا ہوں:
پہلی وجہ انانیت (انا) ہے۔ اس مرض نے بہت سے پارسا لوگوں کی ناؤ ڈبو دی ہے۔ دنیا کے بنائے ہوئے اصولوں کے رنگ میں رنگ جانے کی خاطر، انسان اتنے رنگوں میں رنگتا جاتا ہے کہ آخرکار وہ اناپرستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب ایک انسان دنیا کے بنائے ہوئے اصولوں کو ازلی سچ مان لیتا ہے، تو اس پر جھوٹی پرتوں کا چڑھنا یقینی ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ آہستہ آہستہ فریبی دنیا کا باشندہ بن کر کسی بھی ایسی چیز کو برداشت نہیں کر پاتا جو اس کی خیالی دنیا کے منافی ہو۔ پھر مصنوعی پرتیں اسے اتنی پیاری لگتی ہیں کہ اسے ہمیشہ یہی فکر دامن گیر رہتی ہے کہ کہیں یہ نازک پرتیں کھو نہ جائیں اور دنیا اسے نکما نہ سمجھ بیٹھے۔ اس کا نتیجہ جھوٹی تسلیوں اور خود فریبی کی منحوس شکلوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
دوسری وجہ زندگی کے متعلق محدود نظریہ ہے۔ جس شخص کو آج تک یہ بات سمجھ نہ آئی ہو کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے، اس کا جینا اور مرنا برابر ہے۔ رات اور دن کے آنے جانے میں قدرت کے حسین مگر باریک راز چھپے ہیں۔ اگر قدرت ہمارے سامنے اپنے اصلی روپ میں جلوہ گر ہے، تو انسان کے لیے ایسی کون سی مجبوری ہے کہ وہ پرتوں اور نقلی چہروں کے مکھوٹے پہن کر اپنی اندرونی اور باہر کی گند کو دنیا کی مشک سے کچھ وقت کے لیے معطر کرے؟ اگر ہم زندگی کو حقیقی معنوں میں سمجھ گئے ہوتے، تو خود فریبی کی پرتیں چڑھانے کی کوئی مجبوری نہ پڑتی۔ اپنی اصلی حالت پر رہ کر ہم اس دنیا کے امتحان میں پاس ہو کر امر ہو جاتے۔ اس دنیا میں سربلند ہوتے اور موت کے بعد کی دنیا میں بھی سکون و اطمینان کے لمحات ہمیں میسر آتے۔
تیسری وجہ دوسروں کی خاطر جینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، انسان خود اپنی زندگی میں طوفانوں کو دعوت دیتا ہے تاکہ دوسروں کی عارضی خوشیوں میں کوئی خلل نہ پڑے۔ وہ انسان کتنا بدنصیب ہے جو دوسروں کی خاطر اپنی اصلیت کو داؤ پر لگاتا ہے اور پھر یہ امید لگائے بیٹھا رہتا ہے کہ اس کا بیڑا پار ہو جائے گا! اس قسم کی سوچ پر افسوس اور ماتم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ آج تک ہم نے کچھ ایسا ہی کیا ہے۔ دوسروں کو خوش کرتے کرتے ہم کب غم کی وادیوں میں جا اترے، ہمیں خود بھی پتہ نہ چلا۔
اب ہم کچھ اثرات پر بات کرتے ہیں جو جھوٹی پرتیں چڑھانے سے ہماری زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
سب سے پہلا اثر سکون قلب کا ختم ہونا ہے۔ جھوٹی پرتوں کی وجہ سے انسان کی زندگی سے اندرونی اور بیرونی، دونوں طرح کا سکون ختم ہو جاتا ہے۔ جب انسان کو صرف یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ وہ دنیا میں سب سے اچھا کیسے دکھے اور لوگ اس پر تعریفوں کے پھول کیسے نچھاور کریں، تو اس کی زندگی سے سکون کا ختم ہونا ظاہر سی بات ہے۔ پرتوں کا مسلسل اتارنا اور چڑھانا کوئی آسان کام نہیں، اس کے لیے طاقت کے ساتھ بےحسی بھی بہت ضروری ہے۔
دوسرا اثر زندگی کا ضائع ہونا ہے۔ اصلیت سے دور بھاگ کر خود فریبی کے پرتوں کا غلام بننے کا نتیجہ زندگی کے ضیاع کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس خوبصورت زندگی کا مقصد کچھ ٹھوس اور پائیدار کرنا تھا، لیکن اپنی بےحسی اور جہالت کی وجہ سے یہ انمول زندگی ان بے بنیاد چیزوں کی تلاش میں صرف ہو گئی کہ اب پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچا۔ جب خدا اس زندگی کے بارے میں ہم سے سوالات کا ڈھیر لگائے گا، تو اس وقت ہماری زبان پر تالا لگا ہو گا اور وہی لمحہ ہماری بےغیرتی کا کھلا ثبوت ہو گا۔
تیسرا اثر خالق سے دوری ہے۔ اپنے آپ سے بیگانہ شخص کبھی بھی ساحل تک پہنچنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ جب انسان میں ساحل تک پہنچنے کی سکت ہی نہ ہو، تو خدا تک پہنچنے کی ہمت کیوں کر پیدا ہو گی؟ جو انسان اپنی اصلی حالت میں خود کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا، وہ اللہ کے سامنے کیسے کھڑا ہو سکتا ہے؟ اس کی زندگی میں ہر روز نہ تھمنے والے طوفان تباہی کا بازار گرم کرتے رہیں گے، ہر آن آنکھوں کو آنسوؤں سے تر کرنا پڑے گا اور اسے خود سے ہی نفرت ہونے لگے گی۔
چوتھا اور آخری اثر سماج کی خرابی ہے۔ جب ہر طرف مصنوعی لوگ گھوم رہے ہوں، تو اس کا براہ راست اثر سماج کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ جو معاشرہ کاسموپولیٹن ہونے کے باوجود، اپنے اندر موجود افراد کو اپنے کام سے کام رکھنے کی زور دار تلقین کرتا ہے، وہ کبھی پستی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس، جس معاشرے میں دوسروں کو خوش رکھنے اور اپنی انا کو پورا کرنے کے زہریلے کیڑے ہوں، وہاں ہر طرف تباہی پھیلنا عام سی بات ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ انسان اپنی اصلی حالت میں آنے کی بھرپور کوشش کرے۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی کے مصداق، ہم سب کو انفرادی سطح پر تبدیلی لانے کی فکر کرنی چاہیے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں اوشو کا قول تھا، وہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ جب تک ہم ‘ہم’ نہیں ہو جاتے، اس دنیا میں سکون اور آرام کی باتیں کرنا دیوانوں کے خواب کی مانند ہے۔ انسان کو جاگنا پڑے گا۔ مکھوٹے پہن کر زیادہ دیر تک سچ پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ سچ سورج ہے، جو گھنے بادلوں کے بیچ سے بھی اپنی کرنوں سے دنیا کو روشن کر دیتا ہے۔ اصلیت کا سورج ہر روز طلوع ہوتا ہے اور ہمارے مکھوٹے گرتے جاتے ہیں، لیکن ہم وہ عجیب مخلوق ہیں جو ان پرتوں سے اس طرح چمٹے ہیں کہ کہیں میری حقیقت آشکارا نہ ہو جائے۔
اگر انسان جیسا ہے، لوگوں کے سامنے اسی شکل میں آئے اور پہچانا جائے، تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ اپنے جسم پر مصنوعی تہوں کے ڈھیر لگائے۔ باتوں میں مصنوعیت، چلنے میں مصنوعیت اور زندگی کے ہر شعبے میں مصنوعیت سے بہتر ہے کہ انسان اپنی اصلی حالت میں دکھائی دے، چاہے وہ پھر خونخوار بھیڑیا ہی کیوں نہ ہو۔ تو آئیے، ہم اپنی اصلیت کی اصلاح کی فکر کریں اور اس زندگی کا حقیقی حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔






