یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سر زمین کشمیرازل سے ہی ریشیوں اور عارفوں کی سرزمین رہی ہے ۔اس سے یہ فخر حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں ایسے نفوس قدسیہ نے جنم لیا جن کی ہمہ گیری مسلم ہے اور جن کے اثرات دیر پا ہے۔ کشمیرکی پچھلے ساتھ سو برس کی تاریخ میں جو شخصیت نمایاں رہی ہے۔ان میںحضرت سخی زین الدین ولی (المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ جو وادی کشمیر کے مشہور معروف باعمل روحانی بزرگوں میں ایک ہیں۔حضرت سخی زین الدین رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی خدمت خلق ان کی تابناک اور قابل عمل زندگی کا نمونہ تھی۔ انہیں ولی کاملیوں کی بدولت وادی کشمیر کو دنیا میں ’پیروار کا لقب ملا ہے۔ عشمقام انت ناگ میںاس مردِ خداکی عظیم الشان آستانہ عالیہ جہاں روزانہ عقیدت مندوں اور زائر ین کی ایک بڑی تعداد حاضری دے کر فیض حاصل کرتی ہے۔ اہل کشمیر حضرت سخی زین الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے ہیں او ر احتراماً انہیں” زینہ شاہ ؒ“ کے نام سے یادکرتے ہیں،اور وہ اپنی سخاوت اور روحانی مرتبے کی وجہ سے "سخی زین الدین” کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔
حضرت سخی زین الدین رحمتہ اللہ علیہ اپنے منفرد اور معتبر مقام کی بدولت باشندگانِ کشمیر کے قلب وجگر کے ساتھ ہمیشہ جڑی رہے ہیں۔حضرت سخی زین الدین ولی رحمتہ اللہ علیہ پندرہویں صدی کے ایک عظیم المرتب روحانی بزرگ ہے، اور حضرت علمدار کشمیرشیخ نور الدین ولی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرا خلیفہ تھا۔حضرت سخی زین الدین رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق کشتواڑ سے تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ اشارہ غیبی سے وارد کشمیر ہوئے ،اور حضرت بام الدین یا(پام الدین)) رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہی کی خدمت بدولت سے حضرت شیخ العالم رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔،اورضیاءسنگھ کا نام تبدیل کر کے زین الدین رکھا گیا۔حضرت شیخ نور الدین نورانی رحمتہ اللہ علیہ کے چار خلفاءتھے۔ان میں حضرت بام الدین ریشی ؒ اول جن کا مرقد شریف بمزو مٹن میں واقع ہے۔دوسرا سخی پادشاہ حضرت زین الدین ؒ المعروف زینہ شاہ ؒ حضرت علمدار کشمیر ؒ کے خلیفہ خاص جن کا آخری آرگاہ عشقام میں واقع ہے۔تیسرا خلیفہ حضرت بابا لطیف الدین ریشی ؒ تھے ،اور چوتھا خلیفہ حضرت بابا نصر الدین رشیی ؒ جو علمدار کشمیر ؒ کے ساتھ ہی چرارشریف میں ہے۔ حضرت سخی زین الدین ولی (زینہ شاہ) رحمتہ اللہ علیہ کو کشمیر کے علمدار کشمیر حضرت شیخ نور الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ممتاز خلیفہ اور روحانی شاگرد تھے،اورآپ ؒ کی صحبت سے فیض پاکر روحانیت حاصل کی۔ حضرت سخی زینہ شاہ ؒ نے غار کے اندار ذکر الٰہی کے لیے عیش و عشرت اور دنیائی لذت کی زندگی کو خیر باد کیا تھا، یہی غار” عیش“آپؒ کا آخری آرام گاہ ہے۔آپ ؒ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ عشمقام کی پہاڑیوں میں عبادت، ریاضت اور خلق خدا کی خدمت میں گزارا۔حضرت سخی زینہ شاہ ؒ اپنے مرشد کامل حضرت علمدار کشمیر ؒ سے فیض حاصل کرنے کےلئے چرار شریف ”یا چرار ون“ کیموہ کولگام اور کبھی روپہ ون جایا کرتے تھے۔ حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ ایک باعمل ، نہایت ہی پر ہیز گاراور دلنواز شخصیت تھے۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم اس علاقہ میں ایک آدم خور دیو نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی تھی۔حضرت سخی زین الدین رحمتہ اللہ علیہ نے ا ±س دیو کے ظلم سے لوگوں کو آزاد کیا تھا جس کے بعد آزادی پانے کی خوشی میں لوگوں نے لکڑیاں جلا کر پورے علاقے کو چراغاں کیا تھا،اور یہ روایت آج تک کشمیر برقرار ہے۔حضرت زینہ شاہ ؒ کا آسانہ عالیہ عشقام میں ایک پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔ یہ درگاہ مذہبی ہم آہنگی و آپسی بھائی چارے کا ایک مثال ہے ،اس درگاہ پر نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے عقیدت مند بھی حاضری دے کرسکون قالب پاتے ہیں۔ حضرت سخی زین الدین رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ سیاحتی مقام پہلگام شاہراہ پر واقع ہے،اوریہ آستان عالیہ اتنی بلندی پرکہ جانے کے لئے تقریبا263 سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔اتنی بلندی کے باوجود لوگ اپنی عقیدت اور محبت کے ساتھیہ سیڑھیاں چڑھ کر آستان عالیہ پر حاضری دیتے ہیں۔ صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ کے مزارت پر عقیدت و محبت کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے، جہاں ہزاروں افراد روحانی فیض حاصل کرنے اور دعاو ¿ں کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ مقامات دینی اصلاح، مرکز عقیدت،روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ امن و سکون قلب حاصل کرتے ہیں۔اورحقیقت بھی یہی ہے کہ راہ ِ ہدایت پر استقامت سب سے بڑی کرامت یہی ہیں کہ مردہ دلوں کو زندہ کرنا ، ان میں ایمان اور خشیت الٰہی کے بیج بونا اور مردہ دلوںمیں ایمانی حرارت پیدا کرناہے ، ان روحانی بزرگوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بے شمار انسانوں کو حیات ایمانی عطا فرمائی ہیں۔ حضرت سخی زین الدین رحمتہ اللہ علیہ پندرہویں صدی کے وادی کشمیر کی ممتاز ترین روحانی شخصیات میں شمار ہوتاہے ،حضرت زینہ شاہ ؒ باعمل ،سنت نبوی پر سختی سے عمل کرتے اور تصوف وتفکر کے پیکرتھے ،اور تقریباً سات سو برس گذرنے کے بعد بھی ہر کشمیری کے دل میں زندہ ہے، آپ ؒ کواپنے زمانے میں بھی اور موجود زمانے میں بھی معروف صوفی بزرگوں میں ایک ممتاز مقام ہے۔ حضرت سخی زین الدین ولی (زینہ شاہ) رحمتہ اللہ علیہ کی مشہور روایت جسے آج بھی لوگ ایک کہانی کی ورپ میں بیان کرتے ہیں ۔روایت کے مطابق آپؒ نے جس غار میں عبادت کی اس غار میں ایک آدم خور دیو رہتا تھا جس نے لوگوں میں لوگوں کا جینا محال کیا ہوا تھا۔ حضرت سخی زین الدین ؒ نے اس دیو کو شکست دے کر لوگوں کو اس کے مظالم سے نجات دلائی اور اس کے بعد وہی غار آپؒ کاعبادت گاہ بن گیا۔ اس کے علاوہ اس غار میں سانپوں نے بھی اپنا ٹھکانہ بنایا تھا ۔زینہ شاہ صاحب ؒ کے آتے ہی سانپ دوسری جگہ منتقل ہوئے ،شائد” اس علاقہ کو پہل ہا۔یا ناڑ کہا جاتا ہے“ یہ سانپ آج بھی نہ کسی کو ڈستے ہیں ،نہ کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچاتے ہیں۔
حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق خواجہ محمد اعظم دیدہ مری اپنی مشہور کتاب واقعات کشمیر لکھتے ہیں‘حضرت زین الدین ولی ؒ حضرت علمدار کشمیر رحمتہ اللہ علیہ کی روحانی تربیت میں رہے۔پھر ایک بار انہوں نے شیخ کے حکم پر غار عیش میں سکونت اختیار کی جو دیو او رپری کا مسکن تھی۔ یہی جگہ بعد میں (عیش سے "عیشمقام” کہلانے لگا۔) اس جگہ انہوں نے بہت نفس کشی کی۔ چونکہ وہاں پانی نہ تھا اس لیے شیخ شمس الدین کی استدعا پر بابا کی خدمت میں حاضر ہوئے، جہاں انہیں ایک درخت کے نیچے پانی کی بشارت ملی۔ وہ اس درخت کے نیچے گئے اور پانی کی ندی نکال لی۔ سلطان زین العابدین کے رنجیدہ خاطر ہونے کے سبب حضرت بابا زین الدینؒ انتہائی برف کے زمانے میں تبت چلے گئے، جہاں انہوں نے ایک مردے کو زندہ کیا۔ جب سلطان نے جو اب بیمار تھا، کچھ زیادہ ہی خوشامد و عاجزی کی تو بابا کشمیر لوٹ آئے۔ بادشاہ کے صحتمند ہونے کے بعد اپنے ٹھکانے ہی پر رہے۔ جب ان کا اٹل وقت آ پہنچا تو وقت رحلت انہوں نے وصیت کی کہ مجھے غسل دے کر کفن پہنا دینا اور ایک تابوت میں رکھ چھوڑنا اور منتظر رہنا۔ تحقیق و جستجو کے بعد جب تابوت میں کوئی چیز نہ ملی تو، بیت:۔فانی و خود و بددست باقی۔این طرفہ کہ نیستند و بستند(اپنی ذات سے فاونی اور دوست مل کر صاحب بقا ہو گئے، یہ عجیب بات ہے کہ وہ نہیں ہیں اور ہیں بھی)حاضرین اور طالیبن نے غمناک نالے بلند کیے۔ انہیں خواب میں یہ حکم ملا کہ تابوت کی بجائے قبر کی جگہ درست کرو۔ ان کے خلفا اور طالبوں نے اشارہ غیبی سے اپنی قبروں کی جگہ، احاطے کے اوپر اس قبر کی پشت پر مقرر کی جو بابا کے تابوت کے روبرو ہے۔ ان پر اللہ کی رحمت ہے اور بے پایاں رحمت ہو۔
حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق روایت ہے کہ وہ اپنی قیام گام پر تشریف آور ہوئے تو ان کے احترام اور استقبال کے لئے پرندے اور جنگلی جانور بھی جمع ہوئے۔ وصال سے پہلے حضرت زین شاہ ؒ نے اپنے خلیفوں کو بتایا تھا کہ چالیس دن تک وہ غار کے اندر نہ آئے۔ چالیس دنوں کا عرصہ گزرنے کے بعد جب خلفاء غار کے اندر چلے گئے تو وہاں ان کے بیٹھنے کی جگہ پر سجادہ اور تسبیح دیکھی جس پر وہ پریشان ہوئے،اور چیخ وپکار سے شور مچایا۔آخر خواب میں ان کو حکم ہوا کہ تابوت کی جگہ پر قبر کھود کر دوست کریں ۔لوگوں نے ایسا ہی کیا ،خلفیوں اور طالبوں نے اشارہ سے بالائے خطیرہ اس قبر کے پشت پر اپنی قبریں مقرر کرکے کھدوائیں ۔لہذا جہاں حضرت زینہ شاہ علیہ الرحمہ کی مجازی قبر ہے ۔اسی جگہ پر ان کے خلفاءبھی مدفون ہوگئے تھے۔
حضرت زینہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا مرقد مبارک آج بھی روحانی فیض کا مرکز ہے۔” تاریخ وصال معلوم نہیں کسی نے لکھا تھا کہ 853 ہجری مگر میں نے خود پڑھ نہیں ہے کسی کتاب میں۔“
حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ عرس مبارک یکم اور 2 ۔اپریل کو منایا جاتا ہے اور نماز مغرب کے بعد روایتی مشعلیں روشن کرنے کی رسم اور چراغاں کا اہتمام آج تک جاری ہے۔اس موقعہ پر خاص دعاو ¿ں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ،اور عقیدت مند درگاہ کے صحن میں ہی مشعل جلا کر اس ولی کامل حضرت زینہ شاہ ؒ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے علاوہ درگاہ کے آس پاس آباد مکینوں نے اپنے گھروں میں مشعل اور شمع جلا کر پورے علاقہ کو چراغاں کرتے ہیں۔اس مشہور اور دلکش تقریب میں ہزاروں عقیدت مند خاص کر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے روایتی زول میں بڑھ چڑھ کر شرکت کرتے ہیں۔اورتبرکات کی زیارت انہی ایام میں کیا جاتا ہے، اور ان کے مقدس تبرکات، جن میں ان کا عصا (کلب)، تسبیح، اور لکڑی کی روٹی شامل ہیں، کی زیارت بھی کروائی جاتی ہے۔
حضرت علمدار کشمیر شیخ العالمؒ کے ان اشعار پر اختتام کرتا ہوں۔ترجمہ ۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیارکر ے ، اور اُن سے محبت رکھ لے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر وقت قبلہ روہوتے ہیں ،یعنی ہرقدم خدائے کعبہ کے حکم کے تحت اُٹھاتے ہیں ۔ نیک لوگوں کی صحبت دِل کو نورانی اور بُروں کی صحبت دِل کو سیاہ بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس بندہ اور راہ حق کے عظیم مجاہد ؒ کے فیوض حیات بخش کو تاقیام قیامت جاری رکھا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان نیک لوگوں کی صحبت میں رکھے اور توحیدو سنت کی پیرروکاربنائے ۔ اور ہمارے وادی گلشن کو ہر بلا سے نجات دے۔آمین





