امت نیوز ڈیسک //
بیجنگ : چین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی عالمی برادری کے مفادات کے خلاف ہوگی اور تمام فریقین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے متحدہ عرب امارات کے صدر کے خصوصی ایلچی خالدون خلیفہ المبارک سے ملاقات کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی سکیورٹی خدشات کو سمجھتے ہیں، تاہم مسئلے کا مستقل حل جنگ بندی اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ منسلک تمام بحری آمد و رفت کو روکنے کے لیے پیر کے روز سے ناکہ بندی شروع کرے گی۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا گیا، جن کا مقصد ایران جنگ کا خاتمہ تھا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن نے پریس بریفنگ میں کہا کہ تمام فریقین عارضی جنگ بندی معاہدوں کی پاسداری کریں اور تنازعات کو سیاسی و سفارتی طریقوں سے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ چین اس بحران کے حل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اسلحہ برآمدات کے معاملے میں ذمہ دارانہ پالیسی اور بین الاقوامی قوانین کی سختی سے پابندی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔




