امت نیوز ڈیسک //
ریاض، 17 اپریل 2026:سعودی عرب کی حکومت نے بغیر اجازت حج ادا کرنے والوں اور اس عمل میں معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک لاکھ سعودی ریال (تقریباً 24.9 لاکھ بھارتی روپے) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ بعض افراد پر 10 سال تک مملکت میں داخلے پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔
بیان کے مطابق یہ اقدامات 18 اپریل سے وسط جون تک نافذ رہیں گے، جو حج سیزن کا اہم دورانیہ ہے۔ اس دوران بغیر اجازت مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات میں داخل ہونے یا کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حکام نے واضح کیا کہ بغیر پرمٹ حج ادا کرنے یا اس کی کوشش کرنے والوں پر 20 ہزار سعودی ریال (تقریباً 4.98 لاکھ روپے) تک جرمانہ ہوگا۔ یہی جرمانہ ان وزٹ ویزہ ہولڈرز پر بھی لاگو ہوگا جو یکم ذوالقعدہ سے 14 ذوالحجہ کے دوران مکہ مکرمہ میں قیام کریں گے۔
مزید سخت سزاؤں کے تحت ان افراد پر ایک لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ عائد کیا جائے گا جو غیر قانونی حج میں سہولت فراہم کریں، جیسے وزٹ ویزہ کا انتظام کرنا، غیر مجاز عازمین کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنا یا رہائش دینا۔ خلاف ورزیوں کی تعداد کے مطابق جرمانہ بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔
حکام نے کہا کہ بغیر اجازت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے والے، بشمول ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام کرنے والوں کو ملک بدر کیا جائے گا اور 10 سال کے لیے دوبارہ داخلے پر پابندی عائد ہوگی۔ عدالتیں خلاف ورزی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ضبط کرنے کا حکم بھی دے سکتی ہیں۔
وزارت داخلہ نے شہریوں اور غیر ملکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حج کے ضوابط کی سختی سے پابندی کریں اور کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دیں۔ مزید یہ کہ جرمانہ عائد ہونے کی صورت میں 30 دن کے اندر شکایت درج کرائی جا سکتی ہے جبکہ 60 دن کے اندر انتظامی عدالت میں اپیل کا حق بھی حاصل ہوگا۔





