امت نیوز ڈیسک //
بارہمولہ، 23 اپریل:پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کے روز شمالی کشمیر کے بارہمولہ میں ایک پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمر عبداللہ کی سربراہی میں قائم حکومت نے بھاری عوامی حمایت کے باوجود عوام کے مینڈیٹ سے غداری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث غیر یقینی مستقبل کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا ،”ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں، جس سے والدین پریشان ہیں اور کچھ نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں“۔
محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ حکومت اپنے اہم وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، جن میں 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
“اس کے برعکس بجلی کے منصوبے باہر کے لوگوں کو دیے جا رہے ہیں جبکہ مقامی وعدے ادھورے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
اپنے عوامی رابطہ پروگرام “کتھ بات” کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کشمیر بھر میں لوگوں سے ملاقات کی اور عوام میں شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی دیکھی۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مساجد میں خطباء کو خطبہ دینے سے پہلے نگرانی کا سامنا ہے اور محلہ کمیٹیاں بھی آزادانہ طور پر فلاحی سرگرمیاں انجام نہیں دے پا رہیں۔
سکھ برادری کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کمیونٹی نے ہمیشہ کشمیر کے لوگوں کا ساتھ دیا ہے، لیکن انہیں مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
بھاجپا کے ساتھ اپنے سابقہ اتحاد پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے کبھی بھی عوامی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
انہوں نے سری نگر-مظفرآباد تجارتی راستے کی بندش پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے تاجروں اور پھل اگانے والوں کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا، آخر میں محبوبہ مفتی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مایوس نہ ہوں۔”ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا، ایک وقت آئے گا جب انصاف ضرور غالب آئے گا،“






