امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے مہراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بڑی راحت فراہم کی ہے۔ ذرائع کے مطابق مہراج ملک گزشتہ سال ستمبر سے احتیاطی حراست میں تھے۔
مہراج ملک کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل ایڈوکیٹ اپو سنگھ نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ عدالت نے حبسِ بے جا (ہیبیئس کارپس) عرضی کی سماعت کے بعد پی ایس اے کے تحت جاری حراستی حکم کو منسوخ کر دیا۔
واضح رہے کہ مہراج ملک، جو ضلع ڈوڈہ حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں اور جموں و کشمیر میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں، کو 8 ستمبر 2025 کو امن عامہ کے لیے مضر سرگرمیوں کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں کٹھوعہ ضلع جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
اس حراست کے خلاف دائر عرضی پر ہائی کورٹ میں کئی سماعتیں ہوئیں اور 23 فروری کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
اب حراستی حکم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد توقع ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مہراج ملک کو رہا کر دیا جائے گا، بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہوں۔






