الگ الگ طویل یہ کھردرے پتھریلے دھول مٹی سے لت پت اجنبی راستے اپنی اور کھینچے چلے جاتے ہیں۔ اجنبی شہر کی یہ وحشتیں بے چین ٻے قرار کرتی ہیں۔ چاروں طرف کا سنناٹا خاموش سہما ہوا کوئی احساس اپنی طرف متوجہ کیے جا رہا ہے۔ معلوم نہیں کس سمت اشارہ کرتا ہے۔ ان بے رخ چٹانوں سے نکلتے راستوں پہ تیز ہوا اٹھتی دھند میرے لفظوں خیالوں کو کہیں دور اڑا لے جاتی ہیں جہاں گھنے بادل بھی کسی سازش کا انکشاف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ موسم کی بے ایمانی دغا بازی میرے خلاف کوئی گہری سازش رچ رہی ہو جیسے میری تمام تحریریں میری تصویریں میری ساری جمع پونجی سورج کی تپش میں جل کر راکھ ہو چکی ہوں۔ میرا نقش و نگاری میرا سفر مٹتے دیکھ کوئی بے چین احساس، میرا حال دیکھ دور سے اپنے بالوں کو نوچ رہا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو درد دے کر اپنے ہاتھوں کو غمزدہ تھر تھراہٹ سے مل رہا ہو کوئی اندیکھا احساس میرا سب کچھ لٹتا دیکھ رہا ہے۔ میرے تخیّل کی اُڑتی دھجیاں دیکھی ہوں۔ میرے اندر کی دنیا میں کوئی لاش پڑی ملی ہو جس کی کوئی شناخت نہیں۔ یہ درد بھرا حیران کن احساس مجھے جگانے کی پرزور کوشش میں ہے کبھی گونگی چیخ بن کر تو کبھی بہرے کی بے بسی میرے حال پہ زار و قطار رو رہی ہے۔ یہ بے بسی بے خودی کہیں جسم سے میری روح نہ نکال دے میرے اندر اٹھتا یہ دھواں مجھے راکھ نہ کر دے۔ میری روتی ہوئی آنکھیں بالوں کی یہ الجھن، کانپتا جسم مانو میرا ذکر ، میرے درد ،میرے زخم، گن رہے ہوں۔ گرجتے بادلوں میں چھپے بے رخ انداز مجھے طنز کرتے ہوں جیسے میری دفن کی ہوئی تمام وحشتیں، اندیشے میری پہچان کر رہی ہیں بہرے کان کی بالیاں بجنے لگی۔
یہ تمام وحشیانے مناظر میرے آس پاس رقص کرتی گئی میں بے خود بے حال زمین پر گر پڑی۔ ایسے میں میرا عکس لمبی سانس بھرتے ہوے میرے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپنے ہوے مجھ سے لپٹ گیا۔ میری پلکوں کو سجاتے ہوئے میرے گالوں سے انسوں ہٹا کر الجھے بالوں کو سلجھا کر وجود کو سہلا کر بستر کی سلوٹوں کو سجا کے بکھرے احساس کو سمیٹ کر دھیرے سے میرے سنگ سرگوشی کرتے بولا کہ یہ دھندلے راستے وحشتیں یہ اضطراب، تمہارا وہم ہے میں تمہارا عکس ہوں۔ تمہاری زندگی ہوں تمہیں سنبھالے بیٹھا ہوں۔ میں آواز ہوں، دھڑکن ہوں’ تمہارے دل کی، تمہارے جذباتوں کی تمہارے خاموش احساس کی۔ میں تمہارے اندر تمہارے آس پاس تمہاری ہمت، تمہارا حوصلا بن کے رگ و ریشے میں موجود ہوں۔ تمہاری آنکھوں میں روشنی بن کے ہوں۔ تمہاری نیند میں سپنا بن کے ٹھہرتا ہوں۔ میں یہیں ہوں۔
میرے اس عکس نے مجھے ہلکے ہاتھوں سے نیلے رنگ کی مخملی اوڑھنی اوڑھ لی اور خود بھی میری وجود میں سو گیا۔ میری تمنا تھی کہ میں اس احساس کو کوئی لوری گا کے سناؤں مگر میرا جسم اجنبی وحشتوں نے پوری طرح سے توڑ دیا ہے۔ میری آنکھیں کھل نہیں رہی میرے ہاتھ پیر میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ بس کانپتے لبوں سے چہرے کو ہلکی جنبش دے اتنا ہی کہہ پائی۔۔۔۔
اسے کہہ دو ذرا کچھ دیر ٹھہرے پھر گزر جائے
کہ ایسے میں میرے دل کا چمن تھوڑا سنور جائے
اُنہیں کہنا کہ اپنا چاند سا مکھڑا دکھا جائیں
کہیں شاید دِل بیمار کی حالت سدھر جائے





