چلو پھر سے کچھ کر گزرتے ہیں
بادصبا کےجھونکوں کوسلام کرتے ہیں
چلو پھر فاصلے رنجشوں کے مٹاتے ہیں
بات پھر سے قربتوں کی کرتے ہیں
چنار کی گھنی چھاؤں میں
کئی سال پرانی بات کرتے ہیں
چلو اب بیدار راتوں کو سہلاتے ہیں
خود سے خود کی بات کرتے ہیں
اس گرداب سے کہیں دور نکل کر
اِک نئ بہار کی بات کرتے ہیں
اہٹ سے اپنی، اِک ساز چھیڑیں
پیارا سا اپنا کوئی گیت گائیں
نام سکھیوں کے اُنگلیوں پہ گنتے ہیں
لب و رخسار پہ جن کے کھلتی تھی کلیاں
بارش میں خود کو بگھا دینا
امّاں سے چھپ کے دوپٹہ سکھانا
بنا مطلب کے مسکراتے جانا
تھوڑی سی ڈانٹ پہ روتے رہنا
اور پھر خود کو اُن سے منوانا
ابا سے دلار لے کر پھر کھلکھلانا
اب یہ دانائی کے بوج اُتار کر
پھر سےکوئی شرارت کر گزرتے ہیں
پھربادصباکےجھونکوں کوسلام کرتےہیں