• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مئی ۱۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: کمال مولا مسجد کو مندر قرار دیا

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: کمال مولا مسجد کو مندر قرار دیا

by امت ڈیسک
15/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں دھار ضلع کے بھوج شالہ۔کمال مولہ مسجد کمپلیکس کو مندر قرار دے دیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے آثارِ قدیمہ سروے آف انڈیا، کے سنہ 2003 کے اُس حکم کو منسوخ کر دیا جس کے تحت مسلم فریق کو وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متنازعہ مقام کا مذہبی کردار بھوج شالہ اور دیوی سرسوتی کے مندر کا ہے، جبکہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل زمین کے حصول کے لیے ریاستی حکومت سے رجوع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ تاریخی دستاویزات، ادبی شواہد اور آثارِ قدیمہ کی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مقام سنسکرت تعلیم کا مرکز اور دیوی سرسوتی سے منسوب مندر تھا۔ عدالت نے مرکزی حکومت اور اے ایس آئی کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس مقام کے انتظام و انصرام سے متعلق فیصلہ کریں، تاہم اے ایس آئی کو اس یادگار کی نگرانی، تحفظ اور مذہبی سرگرمیوں پر مکمل اختیار حاصل رہے گا۔

ادھر مسلم فریق نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اب سپریم کورٹ کا رخ کریں گے۔

مسلم فریق کی نمائندگی کرتے ہوئے، مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ توصیف وارثی نے عدالت میں دلیل دی کہ، "متعلقہ جگہ پر کسی مندر، یا خاص طور پر سرسوتی مندر کے وجود کے بارے میں کبھی کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ مزید برآں، مسجد کی مسماری یا اس کے مساوی جگہ کی تعمیر کے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے قطعی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے۔” انہوں نے مختلف دستاویزات پیش کیں جن میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹیں اور مورخین کے تحریری دلائل شامل ہیں۔ لندن یونیورسٹی سمیت دیگر غیر ملکی محققین کی رپورٹس اس میں شامل ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مولانا کمال الدین چشتی (رحمۃ اللہ علیہ) نے 1305 میں مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا، یہ منصوبہ بالآخر 1360 میں مکمل ہوا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جموں کشمیر اسمبلی میں پانچ ایم ایل ایز کی نامزدگی کے کیس کی سماعت 17 جولائی تک ملتوی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں کشمیر اسمبلی میں پانچ ایم ایل ایز کی نامزدگی کے کیس کی سماعت 17 جولائی تک ملتوی

جموں کشمیر اسمبلی میں پانچ ایم ایل ایز کی نامزدگی کے کیس کی سماعت 17 جولائی تک ملتوی

15/05/2026
جموں و کشمیر میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی 2027 تک مؤخر

جموں و کشمیر میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی 2027 تک مؤخر

15/05/2026
بھاجپا  کا کشمیر میں شراب فروشی کے خلاف احتجاج، وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کی جانب مارچ

بھاجپا کا کشمیر میں شراب فروشی کے خلاف احتجاج، وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کی جانب مارچ

15/05/2026
نیٹ یو جی 2026 کا دوبارہ امتحان 21 جون کو ہوگا، این ٹی اے کا اعلان

نیٹ یو جی 2026 کا دوبارہ امتحان 21 جون کو ہوگا، این ٹی اے کا اعلان

15/05/2026
مغربی بنگال میں جانوروں کے ذبیحہ پر سخت قوانین نافذ؛ سرکاری فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر قربانی پر پابندی

مغربی بنگال میں جانوروں کے ذبیحہ پر سخت قوانین نافذ؛ سرکاری فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر قربانی پر پابندی

14/05/2026
الیکشن کمیشن کا بڑا اعلان: کرناٹک سمیت 16 ریاستوں اور 3 مرکز زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر

الیکشن کمیشن کا بڑا اعلان: کرناٹک سمیت 16 ریاستوں اور 3 مرکز زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر

14/05/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »