امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: لداخ کے دو ممتاز سول سوسائٹی گروپس – لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے)، نے جمعہ کو دعوی کیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کو آئینی تحفظات فراہم کرنے پر مرکز کے ساتھ ‘اصولی سمجھوتہ’ ہوگیا ہے۔ دونوں گروپوں نے کہا کہ وہ لداخ میں جمہوریت کی بحالی اور آرٹیکل 371 کے تحت ناگالینڈ، سکم اور میزورم کے خطوط پر آئینی تحفظات فراہم کرنے پر حکومت ہند کے ساتھ ایک "اصولی سمجھوتہ” پر پہنچ گئے ہیں۔
مرکزی حکومت کے آرٹیکل 371 کے تحت آئینی تحفظات اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کو مقننہ دینے پر راضی ہونے کے بعد ایک اہم پیش رفت میں، لداخ کے اداروں اور نئی دہلی میں تعطل ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔
یہ بات چیت سب کمیٹی کے دوران ہوئی جس میں ایل اے بی اور کے ڈی اے اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ نمائندے شامل تھے۔
وزارت داخلہ کی قیادت میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے لداخ گروپوں کے ساتھ 2023 میں بات چیت شروع کرنے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب دونوں فریقوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہوا ہے۔
میٹنگ سے باہر نکلتے ہوئے، لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبات کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمت خطے کے لیے ریاستی حیثیت کی راہ ہموار کرے گی۔
سرکاری پینل کی قیادت جموں و کشمیر اور لداخ کے امور کے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کر رہے تھے۔ کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی کے مطابق دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین نے لچک دکھائی۔
انھوں نے کہا کہ، "یہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور وزارت داخلہ کا پینل معاہدے کے مسودے کو شیئر کرے گا۔ ابھی، ہم یو ٹی میں مقننہ کے ساتھ سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ یہ مرحلہ وار طریقے سے ریاست کا درجہ دینے کے لیے راہ ہموار ہو سکتا ہے۔”
کرگلی کے مطابق اس مسودے پر قانونی اور آئینی ماہرین کے ساتھ بہتر آپریشنل تفصیلات کے لیے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایل اے بی کے چیئرمین چیرنگ ڈورجے لاکروک نے میٹنگ کو مثبت قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ، "لیکن یہ جشن کا مرحلہ نہیں ہے کیونکہ ہمیں معاہدے کی سختی دیکھنے کو ملے گی۔ ہماری خواہش مکمل ریاست کا درجہ ہے اور پینل نے ہمیں بتایا کہ جب لداخ مالی طور پر قابل عمل ہو جائے گا تو وہ اسے دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ ابھی، یہ کچھ معاملات پر اصولی اتفاق رائے ہے۔”
باڈیز نے مزید کہا کہ بات چیت کے دوران، دونوں فریق کئی اہم نکات پر ایک اصولی مفاہمت پر پہنچے ہیں۔
مفاہمت کے مطابق، قانون سازی، ایگزیکٹو اور مالی اختیارات یونین ٹیریٹری قانون ساز ادارے کے ذریعے منتخب نمائندوں کے پاس رہیں گے۔
انہوں نے کہا، "یو ٹی کے تمام بیوروکریٹس بشمول چیف سکریٹری، یو ٹی سطح کے منتخب ادارے (وزیر اعلیٰ بننے کی تجویز) کے ایگزیکٹو سربراہ کے تحت آئیں گے۔
وزارت داخلہ کے حکام نے لداخ گروپوں کے مطابق وضاحت کی کہ لداخ کو اس وقت ریاست نہیں بنایا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں فی الحال ملازمین کی تنخواہوں جیسے محصولات کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مناسب آمدنی کا فقدان ہے۔
لداخ کو بغیر مقننہ کے علیحدہ یوٹی بنا دیا گیا تھا جب سابقہ جموں و کشمیر ریاست کو اگست 2019 میں تقسیم کر کے اسے دو مرکز کے زیر انتظام علاقے بنا دیا گیا۔ تب سے، لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول سمیت اپنے مطالبات کے ساتھ مشترکہ طور پر جدوجہد کی۔
ذیلی کمیٹی کی تشکیل 19 فروری 2024 کو ہائی پاورڈ کمیٹی (ایچ پی سی) اور ایل اے بی اور کے ڈی اے کے 14 رکنی وفد کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے بعد کی گئی تھی، جس میں یونین ٹیریٹری کی مختلف تنظیموں کی نمائندگی کی گئی تھی۔
وزارت داخلہ نے لداخ کے لیے ہائی پاورڈ کمیٹی کو ایک مینڈیٹ کے ساتھ تشکیل دیا جس میں اس کے جغرافیائی محل وقوع اور تزویراتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے کی منفرد ثقافت اور زبان کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے۔( ای ٹی وی بھارت)





