امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 2 جون: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو خط لکھ کر جموں و کشمیر کے اہم سیاسی اور عوامی مسائل پر آل پارٹی میٹنگ طلب کرنے اور مرکزی حکومت کے ساتھ مربوط سیاسی رابطے کا عمل شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔
اپنے خط میں محبوبہ مفتی نے مکالمے اور اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل سیاسی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لداخ کی حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لیہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ مرکز کے مذاکرات سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پہلے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی خواہش مند تھیں، تاہم مصروفیات کے باعث انہوں نے خط کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کیا کیونکہ "وقت تیزی سے گزر رہا ہے”۔
انہوں نے جموں و کشمیر کو ایک نازک موڑ پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام میں مایوسی اور بے یقینی کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق لداخ میں مذاکرات کے مثبت نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ بامعنی پیش رفت صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جموں و کشمیر کو موجودہ تعطل سے نکالنے کے لیے جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع سیاسی اتفاق رائے قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے وقار، حقوق اور تحفظ کی بحالی کے لیے حکومت ہند کے ساتھ تعمیری اور سنجیدہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔
محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے آل پارٹی اجلاس بلائیں اور بعد ازاں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ مستقل مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو عوامی مفاد میں ایک طرف رکھنا چاہیے اور اس عمل کو سیاسی فائدہ اٹھانے کے بجائے اتحاد و یکجہتی کے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 کے بعد علاقائی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات نے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔
محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ اگر لداخ میں مذاکرات کے ذریعے پیش رفت ممکن ہوئی ہے تو جموں و کشمیر میں بھی اسی طرز کی کوششوں سے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس مجوزہ عمل کی کامیابی کے لیے عمر عبداللہ کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی سیاسی اتحاد ہی عوام کے آئینی حقوق اور وقار کی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔






