امت نیوز ڈیسک //
حکمران جماعت این سی کے اراکینِ اسمبلی اور حکومت کی حمایت کرنے والے آزاد ارکان نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ کی صدارت میں داچھی گام میں منعقدہ اجلاس کے دوران نائب وزیر اعلیٰ کی کارکردگی پر شدید اعتراضات اٹھائے۔
قریب آٹھ گھنٹے طویل اجلاس میں قیاس آرائیوں کے برعکس ریاستی درجے کی بحالی سے زیادہ حکومتی نظم و نسق اور وزراء کی کارکردگی زیرِ بحث رہی۔ متعدد اراکینِ اسمبلی نے آر اینڈ بی کے محکمے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے، جو نائب وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر ایم ایل ایز نے فنڈز کی تقسیم میں مبینہ امتیازی سلوک اور نائب وزیراعلیٰ کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ خاص طور پر پیر پنجال خطے کے ارکان نے الزام لگایا کہ نوشہرہ اسمبلی حلقے کو ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کا بڑا حصہ دیا گیا جبکہ دیگر حلقوں کو نظر انداز کیا گیا۔
اراکین نے نبارڈ ، ساسکی ، کیپیکس برج پروگرام اور دیگر اسکیموں کے تحت فنڈز کی تقسیم کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وسائل کی تقسیم میں کھلی جانبداری برتی گئی۔
ذرائع کے مطابق مظفر اقبال خان ، اعجاز جان اور چودھری اکرم نے اس معاملے پر سب سے زیادہ سخت موقف اختیار کیا۔
کشمیر وادی سے تعلق رکھنے والے جاوید حسن بیگ اور علی محمد ڈارنے بھی محکمہ آر اینڈ بی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور فنڈز کی تقسیم میں امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔ ذرائع کے مطابق ایک رکن اسمبلی نے تو نائب وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نائب وزیراعلیٰ کو ہدایت دی کہ وہ ایک ماہ کے اندر ان شکایات کا ازالہ کریں۔
اجلاس کے دوران بعض اراکین نے جاوید رانا اور ستیش شرما کی کارکردگی کے حوالے سے بھی شکایات پیش کیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے نائب وزیر اعلی کو ایک ماہ کے اندر تحفظات دور کرنے کی ہدایت دی۔





