امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 3 جون: نیشنل کانفرنس (این سی) کے مقننہ پارٹی اجلاس نے بدھ کے روز ایک غیر معمولی رخ اختیار کیا جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پارٹی کے وزراء اور اراکینِ اسمبلی کو دن بھر کے جائزہ اور حکمتِ عملی اجلاس کے لیے ڈاچھی گام نیشنل پارک لے گئے۔
ذرائع کے مطابق تمام این سی وزراء اور اراکینِ اسمبلی کو صبح 10 بجے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر جمع ہونے کی ہدایت دی گئی تھی، جس کے بعد انہیں ڈاچھی گام منتقل کیا گیا، جہاں سکیورٹی، لاجسٹک اور مہمان نوازی کے خصوصی انتظامات پہلے سے مکمل کیے جا چکے تھے۔
سیاسی حلقوں میں اس بات کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اجلاس کا مقام آخری لمحے میں تبدیل کیا گیا، تاہم وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ آف سائٹ اجلاس پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔
عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: "ہم آج ایک آف سائٹ اجلاس کے لیے جا رہے ہیں تاکہ گزشتہ 19 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے، جس میں کامیابیاں، خامیاں اور دیگر تمام پہلو شامل ہوں گے۔”
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا: "مجھے افسوس ہے کہ آپ کو مایوسی ہوگی، لیکن اجلاس کو آخری لمحے میں منتقل نہیں کیا گیا۔ میری ابتدا ہی سے یہی منصوبہ بندی تھی کہ یہ اجلاس آف سائٹ منعقد کیا جائے اور تمام انتظامات کئی دن پہلے ہی مکمل کر لیے گئے تھے۔”
اس سے قبل این سی کے رکنِ اسمبلی بشیر احمد ویری نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: "شالیمار پار کر لیا، منزل نامعلوم ہے!” جس کے بعد اجلاس کے مقام کے بارے میں تجسس مزید بڑھ گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد گزشتہ 19 ماہ کے دوران حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور آئندہ سیاسی و انتظامی ترجیحات پر غور کرنا ہے۔
حالیہ دنوں میں اپوزیشن کی تنقید اور این سی قیادت سے متعلق سیاسی قیاس آرائیوں کے پس منظر میں اس غیر روایتی مقام پر ہونے والے اجلاس نے سیاسی حلقوں میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔






