امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 10 جون: ممبرانِ پارلیمنٹ لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم (MPLADS) کی تازہ ترین کارکردگی رپورٹ میں جموں و کشمیر کے پانچوں لوک سبھا حلقوں کے درمیان ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور فنڈز کے استعمال میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اُدھم پور لوک سبھا حلقہ ترقیاتی کاموں کی تکمیل اور فنڈز کے استعمال کے معاملے میں سب سے آگے ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اُدھم پور سے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منظور شدہ 333 منصوبوں میں سے 174 مکمل کیے ہیں، جو مجموعی منصوبوں کا 52.3 فیصد بنتا ہے۔ حلقے میں مختص فنڈز کا 28.2 فیصد استعمال بھی کیا جا چکا ہے، جو جموں و کشمیر کے دیگر تمام پارلیمانی حلقوں کے مقابلے میں سب سے بہتر کارکردگی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اُدھم پور میں مکمل ہونے والے منصوبوں کی تعداد جموں و کشمیر کے باقی چار لوک سبھا حلقوں میں مجموعی طور پر مکمل کیے گئے منصوبوں سے بھی زیادہ ہے۔ دیگر چار حلقوں میں مجموعی طور پر صرف 63 منصوبے مکمل ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار نے دیگر حلقوں میں منصوبوں کی سست رفتار تکمیل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں ترقیاتی منصوبے نامکمل پڑے ہیں۔
سرینگر لوک سبھا حلقے سے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے 163 منظور شدہ منصوبوں میں سے صرف 19 مکمل کیے ہیں، جبکہ 144 منصوبے ابھی تک زیر التوا ہیں۔ حلقے میں مختص فنڈز کا محض 10.7 فیصد استعمال کیا گیا ہے۔
بارہمولہ سے رکنِ پارلیمنٹ عبدالرشید شیخ نے 124 منصوبوں میں سے صرف 12 مکمل کیے ہیں جبکہ 112 منصوبے ابھی تک نامکمل ہیں۔ حلقے کی تکمیل کی شرح صرف 9.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
جموں سے رکنِ پارلیمنٹ جگل کشور شرما نے 193 منصوبوں میں سے 26 مکمل کیے ہیں جبکہ 167 منصوبے زیر التوا ہیں۔ ان کی تکمیل کی شرح 13.5 فیصد رہی ہے۔
اسی طرح اننت ناگ-راجوری لوک سبھا حلقے سے رکنِ پارلیمنٹ میاں الطاف احمد کی کارکردگی سب سے کم رہی۔ انہوں نے 66 منظور شدہ منصوبوں میں سے صرف 6 مکمل کیے ہیں جبکہ 60 منصوبے اب بھی زیر التوا ہیں، جس سے اس حلقے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایم پی ایل اے ڈی ایس کے تحت کروڑوں روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم کئی حلقوں میں منصوبوں پر عمل درآمد انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ نامکمل منصوبوں کی بڑھتی ہوئی تعداد عوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے اور بروقت تکمیل کے لیے جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
اُدھم پور کی جانب سے دیگر چاروں حلقوں کے مجموعی منصوبوں سے زیادہ کام مکمل کیے جانے کے بعد ایم پی ایل اے ڈی ایس کے مؤثر نفاذ اور منتخب نمائندوں کے کردار پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔






