واجد رینہ
کنگن، 12 جون: کنگن کے رکنِ اسمبلی میاں مہر علی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انہیں جموں و کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں ان کی سادہ زندگی، انکساری اور عوام کے ساتھ قریبی تعلق کو نمایاں کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر شیئر کی جانے والی اس ویڈیو میں میاں مہر علی کو ایک سادہ ماحول میں بیٹھ کر مقامی لوگوں سے بے تکلفی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر سیاست دانوں کے گرد سخت سیکیورٹی اور سرکاری پروٹوکول کا تصور پایا جاتا ہے، مگر یہ منظر انہیں ایک عوام دوست اور آسانی سے دستیاب نمائندے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ایم ایل اے کی سادگی اور زمین سے جڑی شخصیت کی تعریف کی۔ بہت سے لوگوں نے اسے عوامی زندگی میں عاجزی کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ رہنماؤں کے لیے اپنی عوام اور برادری سے جڑے رہنا کس قدر ضروری ہے۔
کنگن اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں نے خبر رساں ایجنسی امت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو میاں مہر علی کے روزمرہ کے رویے کی عکاس ہے۔ مقامی افراد کے مطابق وہ اکثر لوگوں سے براہِ راست ملاقات کرتے ہیں، ان کے مسائل سنتے ہیں اور بغیر کسی رسمی رکاوٹ کے مقامی معاملات پر بات کرتے ہیں۔
اس وائرل ویڈیو نے قیادت اور عوامی رابطے کے انداز پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے دور میں جب عوامی ظاہری انداز اکثر منظم اور منصوبہ بندی کے تحت پیش کیے جاتے ہیں، قدرتی اور بے ساختہ لمحات لوگوں کے دلوں پر زیادہ اثر چھوڑتے ہیں۔ بہت سے افراد نے اس ویڈیو کو ایک ایسے عوامی نمائندے کی مثال قرار دیا جو اپنی کمیونٹی سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔
ایم ایل اے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ویڈیو پر ملنے والا مثبت ردِعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ایسے رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں جو ان کے لیے قابلِ رسائی اور قریب ہوں۔ ان کے مطابق ایسے سادہ رویے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں۔
یہ ویڈیو فیس بک، انسٹاگرام، ایکس اور واٹس ایپ پر مسلسل گردش کر رہی ہے اور ہزاروں افراد اسے دیکھ اور شیئر کر چکے ہیں۔ بہت سے صارفین نے اسے ایک خوشگوار تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس تاثر کے برعکس ہے کہ سیاست دان عہدہ سنبھالنے کے بعد عام لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ ویڈیو صرف ایک مختصر لمحے کو پیش کرتی ہے، مگر اس نے بہت سے ناظرین کے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ ان کے نزدیک یہ سادگی، عاجزی اور عوامی سطح سے جڑی قیادت کی علامت ہے، ایسی خوبیاں جنہیں آج بھی عوام بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔






