امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر حکومت کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی اور ان کی بازآبادکاری کے عمل کو آسان بنانے کیلئے کشمیری پنڈتوں اور سرکاری نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی دوبارہ بحال کرے گی۔یہ اعلان جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے "گلوبل کشمیری پنڈت کانکلیو: فرام ایگزائل ٹو ایکسیلینس” نامی پروگرام کے دوران کیا۔
ہفتہ کے روز منعقدہ اس پروگرام میں مہاجر کشمیری پنڈت برادری سے وابستہ کئی افراد جمع ہوئے، یہ پروگرام سرینگر کے معروف ڈل جھیل کے کنارے واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں منعقدہ کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ناصر اسلم وانی نے کہا کہ حکومتی سطح پر ایپکس کمیٹی کو دوبارہ قائم کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں بات چیت کر کے فیصلہ لیا جائے گا۔ ناصر وانی کے مطابق: "ہمارے بھی کچھ حقوق ہیں اور آپ کے بھی۔ ہماری مشترکہ تاریخ ہے۔ آپ ہمیں اپنے سے الگ نہیں سمجھ سکتے۔ میری جلد بھی آپ جیسی ہی ہے۔”
یہ کمیٹی عمر عبداللہ کے پہلے دور حکومت میں قائم کی گئی تھی تاکہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور مرکزی حکومت کی امدادی اسکیموں کی نگرانی کی جا سکے۔ وانی نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں اور حکومت کی جانب سے نمائندوں کو جلد ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی ہوگی اور کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومتی سطح پر ایپکس کمیٹی کی بحالی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کیلئے جلد ہی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ سے رابطہ کیا جائے گا۔ کشمیر کو "پیر ویر” یعنی صوفیوں کی سرزمین قرار دیتے ہوئے وانی نے کہا کہ 1990 میں کشمیری پنڈتوں کے وادی چھوڑنے سے پہلے مسلمانوں اور پنڈتوں کے درمیان گہرا رشتہ تھا۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے بغیر کشمیر کو نامکمل قرار دیا۔
وانی نے مزید کہا کہ حکومت نے مختلف سطحوں پر کئی اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری، وزیر اعظم پیکیج، ٹرانزٹ کیمپ اور کشمیری پنڈتوں کی واپسی کیلئے ایپکس کمیٹی شامل ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ سب لوگوں کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ "اگر آپ کو کانٹا چبھتا تھا تو اس کا درد ہمارے دلوں میں بھی محسوس ہوتا تھا۔”
ناصر اسلم وانی نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں جب شورش شروع ہوئی تو صرف کشمیری پنڈت ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی اس کے اثرات سے شدید متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا: "اگر ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہیں گے تو کسی حل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کیسے کیا جائے اور آگے بڑھنے کا راستہ کیسے تلاش کیا جائے۔”
وانی نے مزید کہا کہ صرف کانفرنسوں اور کمیٹیوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، جب تک کشمیری پنڈت باوقار انداز میں اپنی وادی واپس نہیں آتے۔ اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں کشمیری پنڈت برادری نے شدید مشکلات اور نقل مکانی کا سامنا کیا، لیکن انہوں نے ان حالات کو اپنی شناخت اور مستقبل پر حاوی نہیں ہونے دیا۔
ایل جی کے مطابق: "کئی خاندان ایک ہی رات میں بے گھر ہو گئے، لیکن درد اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود انہوں نے مایوسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔”
منوج سنہا نے کہا کہ کشمیری پنڈت اب نئے عزم اور اعتماد کے ساتھ اپنی سرزمین کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔ ان کے مطابق شدید مشکلات کے باوجود اس برادری نے کبھی ہمدردی کی طلب نہیں کی بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔




