امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 23 جون 2026: جموں و کشمیر کابینہ نے ریزرویشن پالیسی میں مجوزہ تبدیلیوں کے حوالے سے وزارتِ داخلہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب منظور کر لیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ مزید غور و خوض کے لیے مرکزی حکومت کو بھیجا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں سماجی بہبود محکمہ اور محکمہ قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی جانب سے تیار کردہ مسودۂ جواب پر غور کیا گیا اور اسے منظوری دے دی گئی۔
جواب میں وزارتِ داخلہ کے ان تحفظات کا ازالہ کیا گیا ہے جو حکومت کی اس تجویز سے متعلق تھے جس کے تحت آر بی اے طبقہ کے کوٹے میں 3 فیصد اور معاشی طور کمزور کوٹے میں 7 فیصد کمی کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آر بی اے کوٹے میں کمی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ لداخ اب جموں و کشمیر کا حصہ نہیں رہا، جبکہ پہلے یہ علاقہ اسی زمرے میں شامل تھا۔ مزید یہ کہ آر بی اے میں شامل بعض علاقوں کو اب دیگر ریزرویشن زمروں کے تحت فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
ای ڈبیلو ایس کوٹے میں کمی کے بارے میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں اس زمرے کے تحت آنے والی آبادی دیگر کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مقابلے میں کم ہے۔
یہ پیش رفت گزشتہ سال 4 دسمبر کو کابینہ کی جانب سے منظور کی گئی ریزرویشن رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ رپورٹ تین رکنی کابینہ ذیلی کمیٹی نے تیار کی تھی، جس کی سربراہ وزیر سکینہ ایتو تھیں۔
کابینہ کی منظوری کے بعد یہ تجویز پہلے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو بھیجی گئی تھی، جس کے بعد اسے پیشگی منظوری کے لیے وزارتِ داخلہ کے پاس بھیجا گیا۔ وزارت نے بعض نکات پر وضاحت طلب کرتے ہوئے تجویز واپس بھیج دی تھی۔
اب کابینہ کی جانب سے جواب منظور ہونے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تجویز دوبارہ مرکز کو بھیج دی جائے گی تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے۔





