امت نیوز ڈیسک //
کاراکاس، 25 جون: وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 164 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
دارالحکومت کاراکاس سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلوں کے باعث متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں، سڑکوں میں دراڑیں پڑ گئیں اور مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا۔ متاثرہ علاقوں میں لوگ خوف کے باعث گھروں سے نکل کر کھلے مقامات اور عوامی پارکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد ایک اپوزیشن گروپ کی جانب سے قائم کردہ آن لائن پلیٹ فارم پر موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر سامنے آئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔
امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے اقوام متحدہ سے منظور شدہ خصوصی ریسکیو ٹیمیں وینزویلا روانہ ہو چکی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نے 80 امدادی کارکنوں، آٹھ تربیت یافتہ کتوں اور 18 ٹن امدادی سازوسامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ فرانس، اسپین، نیدرلینڈز اور دیگر ممالک نے بھی امدادی ٹیمیں روانہ کرنے کی پیشکش کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اس وقت اولین ترجیح ملبے تلے پھنسے افراد کو زندہ نکالنا ہے۔ انہوں نے وینزویلا کے لیے "تیز، مؤثر اور بڑے پیمانے” پر امریکی امداد کا وعدہ کیا۔
ایران نے بھی وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔ روس، یوکرین، جمہوریہ چیک اور دیگر کئی ممالک نے بھی متاثرہ عوام سے ہمدردی اور تعاون کا اظہار کیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق وینزویلا میں اس نوعیت کے شدید زلزلے کم ہی آتے ہیں اور ملک اس بڑے پیمانے کی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھا۔ حکام نے شہریوں اور نجی اداروں سے خوراک، پانی اور دیگر ضروری امدادی سامان فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





